کراچی:
شہر میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے دوران آن لائن ڈیجیٹل کرنسی لوٹنے کا ایک اور واقعہ سامنے آگیا ہے جہاں سپرہائی وے پر سیاہ رنگ کی ڈبل کیبن گاڑی میں سوار مسلح ملزمان نے ای کامرس کا کام کرنے والے شہری کو اغوا کر کے لاکھوں روپے مالیت کے ڈالرز بٹ کوائن میں تبدیل کرانے کے بعد اپنے والٹ میں ٹرانفسر کرلیے اور اے ٹی ایم کارڈز سے بھی 4 لاکھ روپے نکال لیے۔
گڈاپ سٹی پولیس نے واقعہ کا مقدمہ انسداد دہشت گردی اور دفعہ سیون اے ٹی اے سمیت دیگر دفعات کے تحت متاثرہ شہری سید عثمان اشرف کی مدعیت میں نامعلوم صورت شناس ملزمان کے خلاف درج کر کے مزید تفتیش اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) پولیس کو منتقل کر دی۔
پولیس نے بتایا کہ ملزمان شہری کا لائسنس یافتہ پستول اور قیمتی موبائل فون بھی اپنے ہمراہ لے گئے۔
درخواست گزار نے پولیس کو بیان دیا کہ وہ بحریہ ٹاؤن کا رہائشی اور ای کامرس کا کام کرتا ہے، 12 مارچ کی رات وہ گھر سے اپنی ٹویوٹا کرولا کار میں ضروری کام سے سپر ہائی وے ایم نائن پر کراچی کی جانب جا رہا تھا کہ رات 10 فیضان اسٹیل کے قریب سیاہ رنگ کی ڈبل کیبن (ڈالہ) نے اس کی کار کو آگے سے آکر رکوایا جس میں سے مسلح اشخاص اتر کر میری گاڑی کی جانب آئے اور زبردستی مجھے اتار کر اپنی گاڑی میں بٹھایا جس میں سے چند ایک کو وہ سامنے آنے پر شناخت بھی کرسکتے ہیں۔
مدعی کے مطابق ملزمان نے گاڑی چلاتے ہوئے مجھ سے معلوم کرنے لگے کہ ہمیں پتا ہے تم کرپٹو کرنسی کا کام کرتے ہو اور مجھے جان سے مارنے کا خوف دلا کر 5 لاکھ ڈالر بھتے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان مجھے کسی نامعلوم مقام پر لے گئے، میرے اکاؤنٹ میں 4600 امریکی ڈالر تھے جبکہ ملزمان نے کہا کہ اپنے جان پہنچان والوں سے مزید ڈالر منگواؤ جبکہ میرے اکاؤنٹ میں 20 لاکھ سے زائد پاکستانی کرنسی بھی تھی اس رقم کو بھی انہوں نے کہا کہ اسے ڈالر میں تبدیل کرو اور اس رقم کر 4600 ڈالر والے اکاؤنٹ میں ڈالو جس پر میں نے پروسس کر کے پاکستانی کرنسی کو ڈالر میں تبدیل کیے، اس کے بعد مجموعی طور پر 13 ہزار امریکی ڈالر اکاؤنٹ میں ہوگئی۔
درخواست گزار نے کہا کہ بعدازاں ملزمان نے اس رقم کے عوض بٹ کوائن خریدنے کا کہا اور اس طرح ملزمان نے اپنے والٹ میں آن لائن ٹرانسفر کیے جبکہ ملزمان مجھ سے معلوم کرتے رہے کہ کراچی میں دیگر کرپٹو ٹریڈر کے نام بتاو۔
انہوں نے کہا کہ ملزمان رات سے صبح 6 بجے تک کسی نامعلوم مقام پر مجھے ٹارچر کرتے رہے جس کے بعد انہوں نے کسی کو نہ بتانے اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دے کر مجھے سہراب گوٹھ کے قریب چلتی گاڑی سے اتارتے ہوئے 5 ہزار روپے دیے اور کہا کہ تمہاری گاڑی سپر ہائی وے عثمانیہ ہوٹل کے قریب کھڑی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملزمان نے مجھ سے میرا آئی فون 17 پرومیکس، قیمتی گھڑی اور پرس بھی چھین لیا، جس میں اے ٹی ایم کارڈز بھی تھے اور انہوں نے ان اے ٹی ایم کارڈز سے ایک لاکھ اور 3 لاکھ روپے بھی نکلوائے۔
پولیس کو انہوں نے مزید بتایا کہ جب وہ مذکورہ ہوٹل پہنچا تو گاڑی مل گئی جس میں رکھا ہوا پستول ، 2 میگزین ، 30 گولیاں اور اسلحہ لائسنس غائب تھا۔
گڈاپ پولیس نے متاثرہ شہری کی مدعیت میں مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کے لیے اینٹی وائلٹ کرائم سیل پولیس کے حوالے کر دیا اور اس حوالے سے پولیس کا کہنا ہے کہ مدعی مقدمہ سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں جبکہ ان کے موبائل فون کے ریکارڈ سمیت دیگر چیزوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، بینک سے تفصیلات بھی معلوم کی جائیں گی کہ اے ٹی ایم کارڈز کہاں استعمال ہوئے اور وہاں کی فوٹیجز بھی حاصل کی جارہی ہیں۔