عیدالفطر کی تاریخ اور روح: صدیوں پر محیط خوشیوں کا پیغام

عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک جامع پیغام ہے


منیب مختار March 21, 2026

عیدالفطر کے خوبصورت تہوار کو بھرپور انداز میں منانے کے لیے دنیا بھر میں مسلمانوں کی تیاریاں اپنے عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ پاکستان میں بھی اس کی جھلک واضح طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ہر طرف خوشی، جوش اور عید کے پُرمسرت انتظار کی ایک دلکش فضا قائم ہوچکی ہے، جو اس تہوار کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

ان تمام تیاریوں کے درمیان ایک اہم سوال ذہن میں آتا ہے کہ آخر لفظ ’’عید‘‘ کا اصل مفہوم کیا ہے؟ مختلف زبانوں میں اسے کن ناموں سے پکارا جاتا ہے، اور تاریخ کے مختلف ادوار میں انبیاء کرام کی امتیں اسے کب اور کیوں مناتی رہی ہیں؟ اسی سوال کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس لفظ کے مفہوم اور پس منظر پر غور کریں۔

لفظ ’’عید‘‘ عربی زبان کے لفظ ’’عود‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں ’’لوٹ کر آنا‘‘ یا ’’بار بار آنے والی خوشی‘‘۔ گویا عید ایک ایسا موقع ہے جو ہر سال نئی امیدوں، مسرتوں اور روحانی تازگی کے ساتھ واپس آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں اسے مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔

عربی میں ’عید‘، انگریزی میں ’Eid‘، ترکی میں ’بایرام‘، فارسی اور اردو میں ’عید‘، جبکہ انڈونیشیا اور ملائیشیا میں ’ہاری رایا‘۔ لیکن ان تمام ناموں کے پس منظر میں خوشی اور شکرگزاری کا ایک ہی جذبہ کارفرما ہوتا ہے۔ یہی بنیادی تصور ہمیں تاریخ کے مختلف ادوار میں بھی نظر آتا ہے۔

اگر اس تصور کو تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ خوشی منانے کی روایت انسانی تاریخ میں ہمیشہ سے موجود رہی ہے۔ مختلف انبیاء کرام کے ادوار میں بھی ایسے مواقع آئے جب اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت یا کسی معجزے کے بعد خوشی کا اظہار کیا گیا۔

حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا آگ سے بخیریت نکل آنا، حضرت یونس علیہ السلام کا مچھلی کے پیٹ سے نجات پانا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر مائدہ کا نزول۔یہ تمام واقعات اپنی اپنی جگہ خوشی اور شکر کے مظاہر تھے۔ تاہم اس وقت تک یہ خوشیاں ایک باقاعدہ مذہبی تہوار کی صورت اختیار نہیں کر سکی تھیں۔

اسی سلسلے کو ایک باقاعدہ اور بامقصد شکل اس وقت ملی جب نبی کریمؐ پر نبوت کا اعلان ہوا۔ ہجرتِ مدینہ کے بعد، 2 ہجری میں جب رمضان المبارک کے روزے فرض کیے گئے تو اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عیدالفطر کا عظیم تحفہ عطا کیا، تاکہ ایک ماہ کی عبادت، صبر اور تقویٰ کے بعد وہ خوشی اور شکرگزاری کے ساتھ اس دن کو منائیں۔

مستند روایات کے مطابق نبی کریمؐ نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں نو سال روزے رکھے اور نو ہی عیدیں منائیں، اور ہر موقع پر سادگی، اعتدال اور شکرگزاری کو ترجیح دی۔ جو دراصل عید کی اصل روح کی بہترین عکاسی ہے۔

اگر دنیا کے مختلف خطوں میں عید منانے کے انداز پر نظر ڈالی جائے تو ہر ملک اپنی ثقافت کے مطابق اس خوشی کو منفرد رنگ دیتا ہے، مگر اس کی بنیادی روح یکساں رہتی ہے۔ پاکستان میں عید کا آغاز نمازِ عید سے ہوتا ہے، جس کے بعد لوگ ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارکباد دیتے ہیں، بچوں کو عیدی دی جاتی ہے اور گھروں میں شیر خرمہ اور بریانی جیسے روایتی پکوان تیار کیے جاتے ہیں۔ سعودی عرب میں یہ تہوار روحانیت کے رنگ میں رنگا ہوتا ہے، جہاں مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں خصوصی عبادات اور اجتماعات منعقد ہوتے ہیں۔ ترکی میں بزرگوں کے ہاتھ چومنے، مٹھائیاں بانٹنے اور رشتے داروں سے ملاقات کا خاص رواج ہے، جبکہ انڈونیشیا میں ’مدک‘ یعنی آبائی علاقوں کی طرف واپسی اور اجتماعی معافی مانگنے کی روایت عام ہے۔ اسی طرح مصر میں ’کعک‘ نامی خاص مٹھائی تیار کی جاتی ہے اور لوگ پارکوں اور تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں، جس سے عید کی خوشیاں مزید دوبالا ہو جاتی ہیں۔ اس طرح مختلف انداز ہونے کے باوجود اس تہوار کی روح ایک ہی رہتی ہے۔

یوں اگر دیکھا جائے تو عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں بلکہ ایک جامع پیغام ہے۔ صبر کے بعد خوشی آتی ہے، عبادت کے بعد انعام ملتا ہے، اور انسانیت کے ساتھ محبت و اخوت کا عملی اظہار ہی حقیقی خوشی ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خوشی صرف نئے کپڑوں یا لذیذ کھانوں میں نہیں، بلکہ ایک دوسرے کے دکھ درد بانٹنے، رشتوں کو مضبوط بنانے، اور دلوں کو صاف رکھنے میں چھپی ہے۔ جب ہم عید کی اصل روح شکرگزاری، ہمدردی اور بھائی چارہ کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیں، تو نہ صرف عید کا دن بلکہ ہماری پوری زندگی خوشیوں، سکون اور محبت سے بھرپور منظر پیش کرسکتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
منیب مختار
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔

مقبول خبریں