وزیراعظم نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کو مسترد کردیا

حکومت اربوں روپے کے اخراجات برداشت کررہی ہے، جلد میکنزم بنایا جائے گا تاکہ صرف حقداروں کو ریلیف مل سکے گا، وزیراعظم


ویب ڈیسک March 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سمری کو مسترد کردیا۔

قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ مجھے یقین ہے آپ کا رمضان عبادات، ایثار اور مخلوق خدا کی خدمت میں گزرا ہے، یہ وہ بابرکت مہینے ہے جس نے ہمارے اندر صبر برداشت، دوسروں کے دکھ و درد کو محسوس کرنے کے شعور بڑھایا ہے، دل کی گہرائیوں سے آپ سب کو عید کی مبارک باد۔

انہوں نے کہا کہ یہ عید ہم سے خصوصی طور پر انسانی ہمددری، قومی یکجہتی اور اجتماعی ذمہ داری کا تقاضہ کرتی ہے، حقیقی خوشیاں اُسی وقت مکمل ہوتی ہیں جب ہم انہیں ارد گرد کے مستحق افراد کے ساتھ بانٹیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دنیا ایک غیر معمولی آزمائش سے دوچار ہے، ایثار اور مسلسل محنت ہی ہمیں اس بحران سے نکال سکتی ہیں، خطے میں برادر ممالک کی توانائی تنصیبات پر حملوں نے مزید خدشات بڑھا دیے، اگر یہ بحران طوالت اختیار کرتا ہے تو صورتحال خراب ہوسکتی ہے۔ 

وزیراعظم نے کہا کہ عالمی منڈی میں خلیجی تیل کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں، چند ہفتے قبل تیل 72 ڈالر فی بیرل پر تھا مگر تین ہفتوں میں 158 ڈالر فی بیرل کی تاریخی حد کو عبور کرچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر صورت حال ایسے ہی رہی تو مزید اضافے کو رد نہیں کیا جاسکتا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست بوجھ دنیا بھر کے عوام پر پڑ رہا ہے اور مہنگائی کا طوفان جنم لے رہا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ دو ہفتے قبل 55 روپے فی لیٹر پیٹرول کے اضافے نے عوام کو بہت زیادہ متاثر کیا، بہت سے گھرانوں کو اپنی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، آپ نے ہمیشہ کی طرح صبر کا مظاہرہ کیا جس پر میں مشکور ہوں۔

’پیٹرول 50 روپے اور ڈیزل 74 روپے بڑھانے کی تجویز مسترد کردی‘

انہوں نے کہا کہ 13 مارچ کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، مجھے پھر پیٹرول کی قیمت میں 50 روپے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 74 روپے بڑھانے کی تجویز کی گئی مگر میں نے اسے مسترد کردیا تھا کیونکہ مجھے اندازہ ہے کہ 55 روپے کا اضافہ پہلے ہی آپ پر بوجھ بن چکا ہے۔

’24 ارب روپے کا بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی‘

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ ہفتے فیصلہ کیا اور 24 ارب روپے کا بوجھ حکومت نے خود برداشت کیا، ہم نے اس مقصد کیلیے اپنے بجٹ میں کٹوتیاں کیں، چاروں صوبوں، گلگلت بلتستان کے 24 کروڑ عوام پر مزید بوجھ نہیں پڑنے دیا۔

انہوں نے کہا کہ آج سے شروع ہونے والے ہفتے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ ہوچکا ہے، مجھے پیٹرول کی قیمت میں 76 روپے اور ڈیزل کی مد میں 177 روپے فی لیٹر اضافے کی تجویز دی گئی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے احساس ہے کہ عید کی آمد آمد ہے، ان خوشیوں بھرے لمحات میں قیمتوں میں اضافے کی تجویز کو مسترد کردیا، وفاقی حکومت رواں ہفتے کے بھی اضافی اخراجات برداشت کرے گی، جس کا حجم تقریباً 45 ارب روپے کے قریب بنتا ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ یہ مشکل مگر اہم فیصلہ ہے، اس وقت میری اولین ترجیح عوام کو ریلیف دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت گزشتہ دو ہفتوں میں وفاقی حکومت اب تک پیٹرول کی قیمت میں 127 روپے فی لیٹر، ڈیزل کی قیمتوں میں 252 روپے فی لیٹر اضافے کو روکنے کیلیے اپنی بچتوں اور ترقیاتی بجٹ میں سے 79 ارب روپے کی خطیر رقم خرچ کرچکی ہے، جو حالیہ تاریخ میں خرچ کی جانے والی سب سے بڑی رقم ہے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ یہ دیرپا حل نہیں مگر جہاں تک ممکن ہے یہ بوجھ ہم خود برداشت کررہے ہیں، تاکہ عوام، غریب اور متوسط طبقے کو ریلیف دیا جاسکے، ان اقدامات سے جہاں ضرورت مند طبقات کو سہارا ملا وہیں معاشرے کے خوشحال اور صاحب حیثیت افراد نے بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس غیر منفصانہ عمل کو روکنے کیلیے متعلقہ وزارتوں کو فوری ہدایت جاری کردی، جامع اور شفاف میکنزم مانگا ہے تاکہ حکومتی ریلیف حقداروں تک محدود ہوسکے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم قیمتوں میں اضافے کا بوجھ خود اٹھا کر آپ کو اس سے بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ہم سب کو اپنے طرز زندگی میں احتیاط ، دانشمندی اور کفایت شعاری کو اپنانا ہوگا، بے جا اور غیر ضروری اخراجات سے اجتناب کرنا ہوگا۔

مقبول خبریں