مرکزی صدر پی ٹی آئی چوہدری پرویزالٰہی نے نماز عید الفطر مسجد خاتم الانبیاء ﷺ گجرات میں ادا کی، راسخ الٰہی، میاں عمران مسعود، عثمان ظہورالٰہی، چودھری کاشف سندھو، چودھری خالد سندھو، چودھری نثار احمد بھی ہمراہ تھے۔
چودھری پرویزالٰہی نے ملک و قوم کی سلامتی، غزہ اور ایران سمیت جہاں جہاں مسلمان شہید ہوئے ان کیلئے دعا کی، اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنی اور اپنے خاندان کی طرف سے پوری قوم کو تہہ دل سے عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، بانی پی ٹی آئی کیساتھ زیادتی ہورہی ہے، انہوں نے کسی کا کوئی نقصان نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلے الیکشن میں اللہ تعالیٰ کی کیسی مدد آئی آپ سب نے دیکھا، اللہ کو منظور ہوا تو انشاء اللہ دھاندلی کی کسر نکل جائے گی، کچھ باتیں ایسی ہوتی جو تجربے سے انسان سیکھتا ہے بانی پی ٹی آئی نے میری باتوں کو مانا میرا تجربہ ہے، اب بھی سب نے صبر کیساتھ چلنا ہے، آپ نے بس گھبرانا نہیں ہے۔
ہر نماز کے بعد دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتح نصیب فرما، اسرائیل اور اس کے تکبرسے بھرے حمایتیوں کو اللہ تعالیٰ عبرتناک سزا دے، ن لیگ کی شکل میں کچھ چیزیں آئی ہیں اللہ ان کو ہدایت دے، ن لیگ والے جب آتے ہیں عوام کا تیل تو نکالتے ہی ہیں مگر اس بار جو تیل پڑا ہوا تھا وہ بھی نکال دیا، 10ارب کا جہاز لینے کی کیا ضرورت تھی جہاز میں بیٹھ کر اوپر سے بندے چھوٹے نظر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ن لیگ نے عوام سے تعلق ہی ختم کر دیا تو اب جہاز لینے جیسے ہی کام کرنے ہیں، سیاسی طور پر عوام باشعور ہو چکی ہے، لوگوں کو ان حکمرانوں نے کچھ نہیں دیا، بانی چیئرمین تحریک انصاف جناب عمران خان سے ان کی بہنوں کی ملاقاتوں پر مسلسل پابندی پر سخت تشویش ہے۔
پوری دنیا جان چکی ہے کہ عمران خان کی ایک آنکھ کی بینائی حکومت کی دانستہ غفلت کی وجہ سے ضائع ہو رہی ہے، ملکی آئین اور قانون کے ساتھ ساتھ عالمی قوانین کی رو سے بھی ہر قیدی کا بنیادی انسانی حق ہے کہ بیماری کے دوران اس کو بغیر کسی رکاوٹ کے اس کے خاندان کے ساتھ ملنے دیا جائے، عمران خان کی صحت کے مسئلہ پر حکومت بیمار ذہنیت کا مظاہرہ کر رہی ہے، اس سے قوم میں روز بروز اضطراب بڑھ رہا ہے اور ملکی یکجہتی و اتحاد بھی پارہ پارہ ہو رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملکی یکجہتی اور اتحاد کی پاکستان کو آج جتنی ضرورت ہے شاید پہلے کبھی نہ تھی، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی میں مختلف حیلوں بہانوں سے رکاوٹ پیدا کرنا آئین و قانون کی خلاف ورزی ہے، عمران خان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو مسلسل اپنے پیاروں سے دور رکھنا شرف انسانیت کے بھی منافی ہے۔