ایران کے پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کی مرکزی فضائی حدود میں اسرائیل کے ایف سولہ لڑاکا طیارے کو میزائل سے نشانہ بنایا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی صبح تین بج کر پینتالیس منٹ پر کی گئی اور جدید فضائی دفاعی نظام استعمال کیا گیا۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ جنگ کے دوران دو سو سے زائد دشمن فضائی اہداف کو نشانہ بنایا جا چکا ہے جن میں ڈرون کروز میزائل اور لڑاکا طیارے شامل ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ اس کا ایک لڑاکا طیارہ ایرانی فضائی حدود میں کارروائی کے دوران فضائی دفاعی نظام کی زد میں آیا تھا لیکن پائلٹ نے بروقت خطرے کو محسوس کیا جس کے باعث طیارے کو کوئی نقصان نہیں پہنچا اور اس نے طے شدہ ہدف کامیابی سے مکمل کیا۔
خیال رہے کہ امریکا نے ایران کے جوہری مرکز نطنز کو نشانہ بنایا ہے تاہم ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سب کچھ کنٹرول میں ہے اور تابکار کا اخراج نہیں ہوا۔
ادھر ایران نے کئی ہزار کلومیٹر دور امریکا اور برطانیہ کے مشترکہ فوجی اڈے کو بیلسٹک میزائل حملوں کا نشانہ بنایا۔ جسے بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ فوجی اڈّہ ڈیاگو گارشیا جزیرہ میں واقع ہے جو ایران کے سب سے جنوبی جغرافیائی مقام، پاسبندر کی بندرگاہ سے 3,800 کلومیٹر دور ہے۔
خیال کیا جاتا ہے کہ ایران کے بیلسٹک اور کروز میزائلوں کی رینج 2000 سے 2500 کلومیٹر کے درمیان ہے۔