کراچی میں حالیہ بارش نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو نمایاں کر دیا ہے کہ یہ شہر صرف موسمی چیلنجز کا نہیں بلکہ ناقص انفرا اسٹرکچر کا بھی شکار ہے۔ چند گھنٹوں کی بارش نے معمولاتِ زندگی کو اس طرح متاثر کیا کہ سڑکیں دریا کا منظر پیش کرنے لگیں، ٹریفک جام معمول بن گیا اور شہریوں کو گھروں تک پہنچنا بھی مشکل ہو گیا۔
یہ صورتحال نئی نہیں، بلکہ ہر بارش کے ساتھ دہرائی جانے والی ایک کہانی ہے۔ فرق صرف شدت کا ہوتا ہے، مسائل وہی رہتے ہیں، ٹوٹی سڑکیں، بند نالے، نکاسی آب کا ناکارہ نظام اور شہری منصوبہ بندی کی مسلسل کمی۔
بارش کے بعد شہر کے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونا معمول بن چکا ہے۔ نشیبی علاقے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، جہاں گھنٹوں نہیں بلکہ بعض اوقات دنوں تک پانی کھڑا رہتا ہے۔ اس پانی کے باعث نہ صرف آمدورفت متاثر ہوتی ہے بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی مفلوج ہو جاتی ہے۔ دفاتر جانے والے افراد راستوں میں پھنس جاتے ہیں، طلبا اسکول نہیں پہنچ پاتے اور کاروباری سرگرمیاں سست پڑ جاتی ہیں۔
سڑکوں کی حالت اس صورتحال کو مزید خراب کر دیتی ہے۔ بارش سے پہلے ہی جگہ جگہ گڑھے موجود ہوتے ہیں، اور جیسے ہی بارش ہوتی ہے، یہ گڑھے پانی سے بھر کر خطرناک جال بن جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل سواروں اور گاڑی چلانے والوں کے لیے یہ ایک مستقل خطرہ بن جاتے ہیں۔ کئی علاقوں میں سڑکیں اس قدر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں کہ بارش کے بعد ان پر سفر کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
حالیہ بارش کے دوران تیز ہواؤں اور طوفانی کیفیت نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ مختلف رپورٹس کے مطابق کئی مقامات پر دیواریں اور چھتیں گرنے کے واقعات پیش آئے، درخت اکھڑ گئے اور ٹریفک کا نظام درہم برہم ہو گیا۔ بعض واقعات میں جانی نقصان بھی رپورٹ ہوا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف پانی جمع ہونے تک محدود نہیں بلکہ شہری ڈھانچے کی کمزوری بھی ایک بڑا خطرہ ہے۔
کراچی جیسے بڑے شہر میں نکاسی آب کا نظام بنیادی اہمیت رکھتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ شہر کا بڑا حصہ اب بھی ایک پرانے اور ناکافی ڈرینیج سسٹم پر انحصار کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق شہر کی آبادی میں بے تحاشا اضافہ اور غیر منصوبہ بند تعمیرات نے قدرتی گزرگاہوں کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں بارش کا پانی آسانی سے نکل نہیں پاتا۔
یہ مسئلہ صرف آج کا نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے چلا آ رہا ہے۔ ماضی میں بھی شدید بارشوں کے دوران کراچی میں بڑے پیمانے پر شہری سیلاب کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے، جس کی ایک بڑی وجہ ناقص نکاسی آب اور غیر مؤثر شہری منصوبہ بندی رہی ہے۔
حالیہ بارشوں نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھایا ہے کہ آخر کب تک شہری ہر سال انہی مسائل کا سامنا کرتے رہیں گے؟ صوبائی حکومت اور بلدیاتی ادارے ہر بار بارش سے قبل تیار ہونے کے دعوے کرتے ہیں، مگر عملی طور پر صورتحال مختلف نظر آتی ہے۔ نالوں کی صفائی، سڑکوں کی مرمت اور پانی کی فوری نکاسی جیسے بنیادی اقدامات اکثر وقت پر مکمل نہیں ہو پاتے، جس کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے۔
حکومتی سطح پر اقدامات کا ذکر ضرور کیا جاتا ہے، جیسے مشینری کی دستیابی اور عملے کو متحرک رکھنے کی ہدایات، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی نکاسی سست روی کا شکار رہتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ مختلف اداروں کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ کراچی کا انتظامی ڈھانچہ کئی اداروں میں تقسیم ہے، جس کے باعث ذمے داری کا تعین واضح نہیں ہوتا اور مسائل کے حل میں تاخیر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بارش کے بعد صورتحال قابو سے باہر ہوتی نظر آتی ہے۔
شہریوں کے لیے یہ صرف ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ روزمرہ زندگی کا چیلنج ہے۔ پانی میں ڈوبی سڑکیں، خراب گاڑیاں، بجلی کی بندش اور گھنٹوں پر مشتمل سفر، یہ سب ایک عام شہری کے لیے ذہنی اور جسمانی دباؤ کا باعث بنتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر بھی لوگ اپنی مشکلات بیان کرتے نظر آتے ہیں، جہاں پانی میں ڈوبی گاڑیوں اور سڑکوں کی ویڈیوز ایک عام منظر بن چکی ہیں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ شہری خود بھی بعض اوقات مسائل میں اضافہ کرتے ہیں، جیسے کچرا نالوں میں پھینکنا یا غیر قانونی تعمیرات، مگر اس کے باوجود بنیادی ذمے داری ریاستی اداروں پر ہی عائد ہوتی ہے کہ وہ شہر کے انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنائیں اور مستقل حل پیش کریں۔
کراچی پاکستان کا سب سے بڑا شہر اور معاشی مرکز ہے، جہاں لاکھوں لوگ روزگار اور بہتر زندگی کی امید میں رہتے ہیں۔ ایسے شہر میں بنیادی سہولیات کی کمی نہ صرف شہریوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے بلکہ ملکی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وقتی اقدامات کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جائے۔ جدید ڈرینیج سسٹم، سڑکوں کی معیاری تعمیر، نالوں کی مستقل صفائی اور اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ، یہ وہ اقدامات ہیں جو اس مسئلے کو کم کر سکتے ہیں۔
بارش ایک قدرتی عمل ہے جسے روکا نہیں جا سکتا، لیکن اس کے اثرات کو ضرور کم کیا جا سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ بارش کب ہوگی، بلکہ یہ ہے کہ کیا کراچی اس بارش کے لیے کبھی مکمل طور پر تیار ہو پائے گا؟
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔