پلڈاٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی سے متعلق اہم رپورٹ جاری کر دی

قومی سلامتی کمیٹی نے سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کیا


ویب ڈیسک March 25, 2026

غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی سے متعلق اہم رپورٹ جاری کر دی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا گزشتہ ایک سال کے دوران صرف تین بار اجلاس ہوا اور اس کا کردار زیادہ تر ہنگامی حالات تک محدود رہا۔

رپورٹ کے مطابق اپریل تا جون 2025 کے دوران ہونے والے اجلاس مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہلگام واقعے اور سرحدی کشیدگی کے بعد بلائے گئے، جبکہ جون 2025 کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔

پلڈاٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم کمیٹی مستقل پالیسی فورم کے بجائے ہنگامی ردعمل تک محدود رہی اور نیشنل سکیورٹی ڈویژن کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم ایپکس کمیٹیوں کا کردار بڑھنے اور متوازی فورمز کی موجودگی کے باعث قومی سلامتی کمیٹی کی اہمیت متاثر ہوئی جس سے پالیسی سازی میں ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔

پلڈاٹ نے سفارش کی ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کو باقاعدہ ادارہ بنایا جائے، ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کیے جائیں اور داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال کا مستقل جائزہ لیا جائے۔ رپورٹ میں نیشنل سکیورٹی ڈویژن کو مزید فعال بنانے، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کو مرکزی فیصلہ ساز فورم بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کا سیکیورٹی نظام مضبوط ہے تاہم حکمت عملی زیادہ تر ردعمل پر مبنی ہے اور پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان پایا جاتا ہے۔

مقبول خبریں