غیر سرکاری تنظیم پلڈاٹ نے قومی سلامتی کمیٹی کی کارکردگی سے متعلق اہم رپورٹ جاری کر دی جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کا گزشتہ ایک سال کے دوران صرف تین بار اجلاس ہوا اور اس کا کردار زیادہ تر ہنگامی حالات تک محدود رہا۔
رپورٹ کے مطابق اپریل تا جون 2025 کے دوران ہونے والے اجلاس مقبوضہ جموں و کشمیر کے پہلگام واقعے اور سرحدی کشیدگی کے بعد بلائے گئے، جبکہ جون 2025 کے اجلاس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد خطے کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا۔
پلڈاٹ کے مطابق قومی سلامتی کمیٹی نے سول و عسکری قیادت کے درمیان رابطے میں اہم کردار ادا کیا، تاہم کمیٹی مستقل پالیسی فورم کے بجائے ہنگامی ردعمل تک محدود رہی اور نیشنل سکیورٹی ڈویژن کی صلاحیتوں سے مکمل فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت قائم ایپکس کمیٹیوں کا کردار بڑھنے اور متوازی فورمز کی موجودگی کے باعث قومی سلامتی کمیٹی کی اہمیت متاثر ہوئی جس سے پالیسی سازی میں ہم آہنگی متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا۔
پلڈاٹ نے سفارش کی ہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کو باقاعدہ ادارہ بنایا جائے، ماہانہ بنیادوں پر اجلاس منعقد کیے جائیں اور داخلی و خارجی سیکیورٹی صورتحال کا مستقل جائزہ لیا جائے۔ رپورٹ میں نیشنل سکیورٹی ڈویژن کو مزید فعال بنانے، شواہد پر مبنی پالیسی سازی اور طویل مدتی منصوبہ بندی پر زور دیتے ہوئے قومی سلامتی کمیٹی کو مرکزی فیصلہ ساز فورم بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملک کا سیکیورٹی نظام مضبوط ہے تاہم حکمت عملی زیادہ تر ردعمل پر مبنی ہے اور پیشگی منصوبہ بندی کا فقدان پایا جاتا ہے۔