قصور، بلوچستان میں قتل ہونے والا نوجوان زندہ نکلا، اغوا کاروں کی ویڈیو میں تاوان کا مطالبہ

ایک لاش قصور منتقل کی گئی جسے عنایت علی سمجھ کر علی پارک قبرستان میں دفنا دیا گیا تھا


ویب ڈیسک March 26, 2026

قصور:

گزشتہ ماہ ایک نوجوان کے قتل کیس میں حیران کن موڑ آ گیا جسے بلوچستان میں حملے کے دوران جاں بحق قرار دیا گیا تھا تاہم اب وہ زندہ نکلا اور اغوا کاروں کی ویڈیو سامنے آ گئی ہے۔

پولیس کے مطابق قصور کا رہائشی اور ریٹائرڈ پولیس ملازم عنایت علی ٹیکسی چلاتا تھا جو 28 فروری 2026 کو احسن اور ڈاکٹر ساجد کے ہمراہ بلوچستان میں میڈیکل کیمپ لگانے گیا تھا۔

حکام کا کہنا ہے کہ 8 مارچ کو بلوچستان کے علاقے خضدار میں مسلح افراد کے حملے میں عنایت علی اور ڈاکٹر ساجد کے جاں بحق ہونے کی اطلاع ملی تھی جبکہ احسن لاپتہ ہو گیا تھا۔

پولیس کے مطابق واقعے کے بعد ایک لاش قصور منتقل کی گئی جسے عنایت علی سمجھ کر علی پارک قبرستان میں دفنا دیا گیا۔

تاہم 25 مارچ کو صورتحال نے اس وقت نیا رخ اختیار کیا جب واٹس ایپ کے ذریعے احسن کے اہل خانہ کو ایک ویڈیو موصول ہوئی جس میں مغوی نے اغوا کاروں کی جانب سے 14 کروڑ روپے تاوان ادا کرنے کی اپیل کی۔

ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد قصور پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے اور واقعے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔