بھارتی سپریم کورٹ کا اقلیتوں سے متعلق متنازع فیصلہ، سماجی امتیاز کا تسلسل برقرار

متنازع فیصلے کے مطابق اسلام یا عیسائیت میں تبدیلی پر شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ ختم ہو جائے گا


ویب ڈیسک March 26, 2026
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

بھارتی سپریم کورٹ نے اقلیتوں سے متعلق متنازع فیصلہ سناتے ہوئے  سماجی امتیاز کا تسلسل برقرار رکھا ہے۔

ہندو انتہا پسند جماعت بی جے پی کے کٹھ پتلی بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اقلیتوں کو بنیادی حقوق اور مساوی مواقع سے محروم کرنے کے لیے مضحکہ خیز قانون کا سہارا  لے لیا ۔

بھارتی جریدے انڈیا ٹوڈے کے مطابق بھارتی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اسلام یا عیسائیت میں تبدیلی پر شیڈولڈ کاسٹ کا درجہ ختم ہو جائے گا۔ بھارتی قانون کے تحت صرف ہندو، سکھ اور بدھ مت کے افراد شیڈولڈ کاسٹ درجے کے اہل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ بھارتی شہری  کے عیسائیت اختیار کرنے کے بعد سپریم کورٹ میں قانونی تحفظات کا دعویٰ کرنے کے بعد سامنے آیا۔ بھارتی پادری نے محض مذہب کی تبدیلی پر بدترین تشدد اور بدسلوکی پر سپریم کورٹ میں کیس دائر کیا تھا۔

عالمی ماہرین کے مطابق بھارت میں مذہب تبدیلی قوانین کی آڑ میں اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کو منظم طور پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حالیہ متنازع فیصلے کے بعد مذہب تبدیل کرنے والے افراد مخصوص مراعات یعنی نوکری، تعلیم اور سیاسی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کر سکیں گے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بنیادی شہری  حقوق کا تعلق مذہب سے ہونا بھارتی آئین کے آرٹیکل 14 اور 15 کے متصادم ہے۔

شیڈولڈ کاسٹ سے متعلق بھارتی سپریم کورٹ  کا فیصلہ مودی حکومت کی اقلیتوں کیخلاف متعصبانہ پالیسیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔