امید ہے وفاقی آئینی عدالت مسنگ پرسنز کو بازیاب کروالےگی، جسٹس محسن اختر کیانی

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ عمر عبداللہ کی بازیابی سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کیلئے اہلیہ کی درخواست پر سماعت ہوئی


ویب ڈیسک March 26, 2026

اسلام آباد ہائیکورٹ میں لاپتہ عمر عبداللہ کی بازیابی سے متعلق فیصلے پر عملدرآمد کیلئے اہلیہ کی درخواست پر سماعت ہوئی، جسٹس محسن اختر کیانی نے کیس کی سماعت کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے حکم امتناع جاری کر دیا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ امید ہے وفاقی آئینی عدالت مسنگ پرسنز کو بازیاب کروا لے گی، وفاقی آئینی عدالت کے مطابق ہائیکورٹ کا فیصلہ اور ڈویژن بینچ کا آرڈر غلط قرار دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پھر پاکستان میں مسنگ پرسنز بازیاب نہیں ہو سکتے، اس عدالت کی کارروائی معطل ہو چکی ہے اور درخواست گزار کو وفاقی آئینی عدالت سے رجوع کرنا ہوگا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت کے مطابق مسنگ پرسنز کی بازیابی ہائیکورٹ کا اختیار نہیں، اب وفاقی آئینی عدالت ہی اس معاملے کو دیکھے گی اور ہائیکورٹ کو اس کے خیالات کا احترام کرنا ہوگا۔

سماعت کے دوران جسٹس محسن اختر کیانی نے سینئر صحافی حامد میر کے آرٹیکل "بڈھے بلوچ کی نصیحت" کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں جہاں لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو برسوں انتظار کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ جس کی موت ہو جائے صبر آ جاتا ہے مگر لاپتہ ہونے کی صورت میں خاندان عمر بھر انتظار میں رہتا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ عدالتیں ہی آخری امید ہوتی ہیں، دس سال گزرنے کے باوجود اگر ریاستی ادارے معلومات نہ دے سکیں تو مسئلہ سنگین ہو جاتا ہے۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ سرکاری وکلا کیلئے بھی مسنگ پرسنز کے مقدمات کا دفاع مشکل ہوتا ہے، اگر کوئی دہشت گرد ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے مگر افراد کو برسوں لاپتہ رکھنا مسئلے کا حل نہیں۔ انہوں نے کہا کہ شاید اس حوالے سے لکھے گئے مضامین پڑھ کر کچھ بات سمجھ آ جائے۔