چین کا خلائی میدان میں اہم سنگِ میل، مدار میں سیٹلائٹ ری فیولنگ کا کامیاب تجربہ

سیٹلائٹ نے ایک خاص قسم کے لچکدار روبوٹک بازو کے ذریعے ری فیولنگ کا عمل انجام دیا


ویب ڈیسک March 26, 2026

چین نے خلائی ٹیکنالوجی میں ایک اور پیش رفت کرتے ہوئے زمین کے نچلے مدار میں سیٹلائیٹ کو ایندھن فراہم کرنے کا کامیاب تجربہ کر لیا ہے۔

اس تجربے میں ایک کمرشل سیٹلائیٹ Yusheng 306 کو استعمال کیا گیا، جسے حال ہی میں صوبہ گانسو سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔

چینی میڈیا کے مطابق اس سیٹلائیٹ نے ایک خاص قسم کے لچکدار روبوٹک بازو کے ذریعے ری فیولنگ کا عمل انجام دیا۔ آکٹوپس جیسے اس بازو کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ پیچیدہ اور تنگ جگہوں میں آسانی سے مڑ کر مطلوبہ مقام سے جڑ سکتا ہے۔ اس کے سرے کو مخصوص پورٹ سے منسلک کر کے ایندھن کی منتقلی ممکن بنائی جاتی ہے۔

یہ جدید روبوٹک نظام متعدد اسپرنگ نما ٹیوبز اور موٹرز پر مشتمل ہے، جو اسے مختلف زاویوں سے حرکت کرنے اور کسی بھی سطح کے ساتھ جڑنے کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں۔ 

اگرچہ یہ واضح نہیں کہ اس تجربے کے دوران یوشینگ 306 نے کسی دوسرے سیٹلائیٹ کے ساتھ مکمل طور پر ڈوک کیا یا نہیں، تاہم ماہرین کے مطابق مدار میں موجود کسی سیٹلائیٹ کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے انتہائی درستگی کے ساتھ مخصوص پورٹ سے جڑنا ضروری ہوتا ہے۔

اس عمل کے دوران سیٹلائیٹس تقریباً 27 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کے گرد گردش کر رہے ہوتے ہیں، جس سے یہ کام نہایت پیچیدہ اور حساس بن جاتا ہے۔

ماہرین نے اس تجربے کو خلا میں سوئی میں دھاگا ڈالنے جیسا مشکل مرحلہ قرار دیا ہے، کیونکہ معمولی سی غلطی بھی پورے مشن کو ناکام بنا سکتی تھی۔ اسی لیے تحقیقی ٹیم نے سیٹلائیٹ کے ڈیزائن اور کنٹرول سسٹم کو انتہائی احتیاط کے ساتھ تیار کیا۔

یہ سیٹلائیٹ زمین کی سطح سے تقریباً 530 سے 540 کلومیٹر کی بلندی پر مدار میں گردش کر رہا ہے اور قطب سے قطب تک چکر لگاتا ہے۔ خلا میں سیٹلائیٹس کو دوبارہ ایندھن فراہم کرنے کی ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، جس کا مقصد مہنگے خلائی نظام کی عمر میں اضافہ کرنا ہے۔

یاد رہے کہ اس سے قبل چین نے Shijian 25 کو Shijian 21 کے ساتھ جوڑ کر ری فیولنگ کا ایک اور کامیاب تجربہ کیا تھا، جو تقریباً 36 ہزار کلومیٹر کی بلندی پر انجام دیا گیا تھا۔ یہ پیش رفت خلائی شعبے میں چین کی بڑھتی ہوئی مہارت کو ظاہر کرتی ہے۔