اگر آپ دن بھر بار بار جمائی لیتے ہیں یا نیند پوری نہ ہونے کی وجہ سے مسلسل کافی کا سہارا لیتے ہیں تو یہ صرف تھکن نہیں بلکہ ایک سنجیدہ صحتی مسئلے کی نشاندہی بھی ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسی علامات اکثر نیند کی شدید کمی کی طرف اشارہ کرتی ہیں، جو وقت کے ساتھ خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
امریکی ادارے ’امریکن اکیڈمی آف سلیپ میڈیسن‘ نے حالیہ بیان میں واضح کیا ہے کہ بار بار جمائی لینا دراصل ناکافی نیند کی علامت ہے، اور اگر اس پر توجہ نہ دی جائے تو یہ صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس مؤقف کی دنیا بھر کی 25 طبی تنظیموں نے بھی تائید کی ہے۔
ادارے کے صدر کے مطابق نیند کی کمی صرف فرد تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات معاشرے تک پھیل سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر نیند کی حالت میں گاڑی چلانا حادثات کا باعث بن سکتا ہے، جبکہ کام کے دوران توجہ کی کمی غلطیوں اور دیگر مسائل کو جنم دیتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ سات سے آٹھ گھنٹے کی معیاری نیند نہ لینے سے ذیابیطس، ڈپریشن، دل اور گردوں کے امراض، ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا اور فالج جیسے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ امریکا میں تقریباً ایک تہائی بالغ افراد دن کے وقت غیر معمولی غنودگی کی شکایت کرتے ہیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
نیند کے ماہرین کے مطابق لوگ اکثر غنودگی کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، جیسے کسی میٹنگ میں اونگھ جانا، حالانکہ یہ واضح اشارہ ہوتا ہے کہ جسم کو مناسب آرام نہیں مل رہا۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ جو شخص مکمل آرام کر چکا ہو، وہ بوریت کے باوجود نیند محسوس نہیں کرے گا۔
مسلسل نیند کی کمی دماغی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے، جس کے باعث انسان اپنی حالت کا درست اندازہ نہیں لگا پاتا۔ ایسے افراد یادداشت، ردعمل اور ہم آہنگی کے ٹیسٹ میں زیادہ غلطیاں کرتے ہیں، حالانکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ وہ ٹھیک ہیں۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ نیند کی شدید کمی کے دوران دماغ چند لمحوں کے لیے ’’مائیکرو سلیپ‘‘ میں جا سکتا ہے، جو خاص طور پر ڈرائیونگ یا حساس کام کے دوران انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ ٹریفک حادثات نیند کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث پیش آتے ہیں۔
نیند کی کمی کی وجوہات میں سلیپ ایپنیا، بے خوابی، طرزِ زندگی کی خراب عادات، ادویات اور ذہنی دباؤ شامل ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق زیادہ کیفین، سونے سے پہلے شراب نوشی، ورزش کی کمی اور غیر آرام دہ ماحول بھی نیند کے معیار کو متاثر کرتے ہیں۔
ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی شخص کو مسلسل غنودگی یا نیند کی کمی محسوس ہو تو اسے سنجیدگی سے لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر طبی معائنہ کروایا جائے، تاکہ بروقت تشخیص اور علاج ممکن ہو سکے۔