تہران / نیویارک: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اہم گفتگو میں امریکا اور اسرائیل کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے اور موجودہ جنگ کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری جنگ عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اس کے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ اپنی ذمہ داری ادا کرے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے عملی اقدامات کرے۔
عباس عراقچی کے مطابق امریکا اور اسرائیل نے خطے پر جنگ مسلط کی ہے جس کے نتیجے میں سفارتکاری کے عمل کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے دوران شہری تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں اسکول، اسپتال اور رہائشی علاقے شامل ہیں، جو بین الاقوامی انسانی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ بعض ممالک کی جانب سے ایران سے تحمل کا مطالبہ کیا جا رہا ہے، لیکن وہ اصل جارحیت کو نظر انداز کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو یکطرفہ مؤقف اپنانے کے بجائے حقیقت پسندانہ اور منصفانہ کردار ادا کرنا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اقوام متحدہ پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے تاکہ عالمی سطح پر اس تنازع میں مؤثر سفارتی مداخلت کی جا سکے۔