یوکرین کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کا اعلان

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات سے قبل دفاعی معاہدے کے حوالے سے دستاویزات پردستخط ہوگئے ہیں، یوکرینی صدر زیلنسکی


ویب ڈیسک March 27, 2026
فوٹو: زیلنسکی ایکس

یوکرین کے صدر ویلادیمیرزیلنسکی نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے پر دستخط کر لیے ہیں جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ ہوگا۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں یوکرینی صدر زیلنسکی نے بتایا کہ ہم یوکرین کی وزارت دفاع اور سعودی عرب کی وزارت دفاع کے درمیان دفاعی تعاون کے اہم معاہدے تک پہنچ گئے ہیں اور سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کے ساتھ ملاقات سے قبل دستاویز پر دستخط کردیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ یہ دستاویز مستقبل میں معاہدوں، ٹیکنالوجیکل تعاون اور سرمایہ کاری کی بنیاد فراہم کرتی ہے اور اس سے یوکرین کا دفاعی حوالے سے دنیا میں کردار کا تاثر بھی مضبوط ہو رہا ہے۔

یوکرین کے صدر نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ اپنی مہارت اور نظام فراہم کرنے اور انسانی جانوں کے تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے مل کر کام کرنے کو تیار ہیں، یوکرین گزشتہ 5 برس سے بلیسٹک میزائلز اور ڈرونز کے اسی طرح کے دہشت گردی کے حملوں کی مزاحمت کررہا ہے، جیسے اس وقت ایران کی حکومت مشرق وسطیٰ اور خلیج میں حملے کر رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے پاس بھی ایسی صلاحیت ہے جو یوکرین کے مفاد کا باعث ہے اور یہ تعاون دونوں کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

زیلنسکی نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے حوالے سے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے مشرق وسطیٰ اور خلیج میں مجموعی صورت حال، روس کی ایرانی حکومت کو مدد، تیل کی مارکیٹ میں پیش رفت اور توانائی کے شعبے میں ممکنہ تعاون پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی وزارت دفاع نے بتایا کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کو کیے گئے حملوں کے بعد سے اب تک ایران سے داغے گئے سیکڑوں ڈرونز اور درجنوں میزائل ناکارہ بنا دیے ہیں اور صرف جمعے کو تقریباً 6 میزائل روکے گئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ طویل عرصے سے روس کے ڈون حملوں کا نشانہ بننے والے یوکرین نے ایران کی جانب سے مشرق وسطیٰ کے ممالک پر حملوں کے ساتھ ان ممالک سے دفاعی معاہدوں کی خواہش ظاہر کی تھی اور رواں ماہ زیلنسکی نے بتایا تھا کہ ایرانی حملوں کے خلاف دفاع میں تعاون کے لیے 201 اینٹی ڈرون ماہرین کو مشرق وسطیٰ میں تعینات کیا گیا ہے۔

یوکرین کے ایئر ڈیفنس کور فورسز کے ڈپٹی کمانڈر یوری چیرریواشینکو نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں ڈرونز کو ریت کے طوفان جیسے خطرناک چیلنجز کا سامنا ہے لیکن کامیابی سے روکنے کا انحصار پائلٹ کی مہارت پر ہے۔

یوکرین ماسکو کے ڈرون حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اہم سستا مگر مؤثر انٹرسیپٹر ڈرون تیار کرنے والا ملک بن گیا ہے اور روسی ڈرون حملوں میں 2024 کے آخر سے شدت آگئی ہے اور صرف رواں برس سردیوں میں روس نے یوکرین پر 19 ہزار سے زائد ڈرون حملے کیے ہیں۔