جینوسائیڈ واچ نے اپنی رپورٹس میں انکشاف کیا ہے کہ بھارت نسل کشی کے دس مراحل میں سے سات مرحلے عبور کر چکا ہے۔
جینوسائیڈ واچ ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر میں نسل کشی کی نگرانی اور روک تھام کرتی ہے۔ جینوسائیڈ واچ کا دس مراحل پر مبنی فریم ورک نسل کشی کی علامات کی نشاندہی کرتا ہے۔
جینوسائیڈ واچ نے فروری 2026 کی رپورٹ خاص طور پر بھارت میں مسلمانوں کی نسل کشی پر مرکوز کی ہے جس میں بتایا گیا کہ نریندر مودی کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے نفرت انگیز تقاریر اور مخالف مسلم ریلیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
جینوسائیڈ واچ نے بتایا کہ بھارتی معاشرے میں امتیازی قوانین، تعصبی بیانات اور اقلیتوں کی حقوق سے محرومی عام ہے۔ بھارت میں تعصب، بڑھتی ہوئی نفرت انگیز تقاریر ، قانونی اخراج اور تشدد عروج پر ہے جبکہ بھارتی سول سروس میں مسلمانوں کی کم نمائندگی ،سینکڑوں انٹرنیٹ پابندیاں، نفرت انگیز واقعات اور مکانات کا انہدام مل کر بڑے پیمانے پر تشدد کی تیاری کو ظاہر کرتے ہیں۔
جینوسائیڈ واچ کے مطابق کل آبادی کا 14.2٪ ہونے کے باوجود مسلمانوں کی نمائندگی سول سروس میں صرف 3٪ اور پولیس میں 4٪ ہے۔ لاکھوں مسلمان قانونی تحفظ اور فیصلہ سازی کے عمل میں شامل نہیں ہو سکتے۔
دوسری جانب آسام میں 7 ملین سے زائد افراد کی شہریت ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ آسام میں 10 نئے حراستی مراکز کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جبکہ سب سے زیادہ بنگالی مسلمانوں کو شہریت سے محروم ہونے کا خطرہ ہے۔
جینوسائیڈ واچ کا کہنا ہے کہ ہندوتوا رہنما ہندوؤں کو اسلحہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہیں اور تشدد کو دفاع کے نام پر جائز قرار دیتے ہیں۔ دہشت گرد حملوں کے بعد مسلمانوں کے قتل کے لیے آن لائن ویڈیوز، گانے اور پیغامات وائرل کیے جا رہے ہیں۔
جینوسائیڈ واچ کے مطابق مسلمانوں پر ہندو جتھوں کے حملوں میں پولیس نے زیادہ تر مسلم متاثرین کو گرفتار کیا۔ بھارت کی جیلوں میں مسلمان قیدیوں کی تعداد 19٪ ہے۔
جینوسائیڈ واچ نے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت میں نفرت انگیز تقریبات اور تربیتی کیمپ فوری طور پر بند کیے جائیں۔