امریکا میں ٹرمپ اور جنگ کے خلاف عوامی بغاوت، 70 لاکھ افراد سڑکوں پر نکل آئے

امریکا اور اسرائیل نے مل کر خطے میں جنگ کو ہوا دی، سینیٹر برنی سینڈرز


ویب ڈیسک March 28, 2026

امریکا بھر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایران جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر نو کنگز کے عنوان سے احتجاجی ریلیاں منعقد ہوئیں، جن میں میڈیا رپورٹس کے مطابق 70 لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔

مظاہرین نے جنگ کے خاتمے اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی، جبکہ منتظمین کے مطابق ملک کی 50 ریاستوں میں 3 ہزار سے زائد مقامات پر مظاہرے کیے گئے۔

ریاست مینی سوٹا میں ہونے والی بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ امریکی عوام سے ایران جنگ کے حوالے سے جھوٹ بولا جا رہا ہے اور اس جنگ کو فوری طور پر روکنا ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگوں پر امریکی عوام کے ٹیکس کا پیسہ ضائع نہیں کریں گے مگر اس کے برعکس انہوں نے ایران کے خلاف جنگ چھیڑ دی۔

برنی سینڈرز نے مزید کہا کہ ایران جنگ غیر آئینی ہے کیونکہ اس کے لیے کانگریس سے اجازت نہیں لی گئی، جبکہ اس تنازع میں امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہونے کے واقعات بھی سامنے آ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں ایرانی شہری جاں بحق ہوئے اور سیکڑوں تعلیمی ادارے متاثر ہوئے۔

سینیٹر نے اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکا اور اسرائیل نے مل کر خطے میں جنگ کو ہوا دی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تنازع کے باعث لبنان، مغربی کنارے اور دیگر علاقوں میں بھی انسانی بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

مظاہروں کے دوران ہزاروں افراد نے اینڈ دا وار اور نو کنگز کے نعرے لگائے، جبکہ کچھ مقامات پر اسرائیلی حکومت کے خلاف بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

روسی میڈیا کے مطابق تل ابیب میں بھی احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں خواتین اور بزرگ افراد نے شرکت کی اور ایران جنگ کے خلاف آواز اٹھائی۔

رپورٹس کے مطابق اتوار کے روز بھی امریکا کی مختلف ریاستوں میں مزید 3200 احتجاجی مظاہرے متوقع ہیں اور منتظمین کا دعویٰ ہے کہ یہ امریکی تاریخ کے سب سے بڑے احتجاجی مظاہروں میں سے ایک ثابت ہو سکتے ہیں۔