تہران: ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے عالمی معاہدے (این پی ٹی) سے علیحدگی پر سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش کی نئی لہر دوڑ گئی ہے۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس ممکنہ فیصلے کا مقصد آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کے ذریعے مبینہ جاسوسی کو روکنا ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ کچھ معائنہ کاروں کے ذریعے حساس معلومات امریکا اور اسرائیل تک پہنچائی جا رہی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ اور دیگر متعلقہ ادارے اس معاملے پر غور کر رہے ہیں اور یہ تاثر بڑھ رہا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے لیے این پی ٹی میں رہنے کا جواز کمزور ہو چکا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ این پی ٹی کے تحت آئی اے ای اے کی ذمہ داری ہے کہ ایران کو پرامن جوہری ٹیکنالوجی اور آلات تک رسائی دی جائے، تاہم ان کے مطابق امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایرانی ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ آئی اے ای اے اس پر مؤثر ردعمل دینے میں ناکام رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر ایران این پی ٹی سے الگ ہونے کا فیصلہ کرتا ہے تو یہ عالمی جوہری نظام کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب پاکستان سمیت کچھ ممالک سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم صورتحال بدستور پیچیدہ دکھائی دے رہی ہے۔