غیر سرکاری تنظیم فیفن نے سندھ ٹرانسپیرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ جاری پالیسی بریف میں شفافیت کے وعدوں کو عملی شکل دینے پر زور دیا گیا ہے۔
رپورٹ میں صوبائی اسمبلی، حکومت اور انفارمیشن کمیشن کو مشترکہ اقدامات کی تجویز دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ پاکستان میں غلط معلومات کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے مؤثر قانون سازی ضروری ہے۔ فیفن کے مطابق آئین کے آرٹیکل 19 اے کے باوجود قانون پر عملدرآمد کمزور ہے۔
رپورٹ کے مطابق سندھ کے 61 اداروں میں سے صرف 54 فیصد معلوماتی تقاضوں پر عملدرآمد کر رہے ہیں، جبکہ قانون میں مبہم تعریفیں اور رپورٹنگ کا مؤثر نظام نہ ہونا بڑی خامیاں ہیں۔ مزید کہا گیا ہے کہ آر ٹی آئی نظام میں ڈیجیٹلائزیشن کی کمی اور درخواستوں کی ٹریکنگ کا فقدان بھی مسائل میں شامل ہے۔
فیفن نے نشاندہی کی کہ انفارمیشن کمیشن کی خودمختاری اور مالی وسائل ناکافی ہیں، جبکہ مخبروں کے تحفظ کے لیے قانون میں ترامیم کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں انفارمیشن کمشنرز کی شفاف تعیناتی اور معلومات تک رسائی کے لیے جدید ڈیجیٹل نظام متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔