ایران جنگ پورے خطے کو طویل بحران میں دھکیل سکتی ہے، سربراہ ترک انٹیلی جنس سروس

ابراہیم قالن کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے


ویب ڈیسک March 29, 2026

انقرہ: ترکیہ کی خفیہ ایجنسی کے سربراہ ابراہیم قالن نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ ایک طویل اور خطرناک علاقائی تنازع کی بنیاد رکھ رہی ہے، جو کئی دہائیوں تک جاری رہ سکتا ہے۔

اپنے ایک خطاب میں ابراہیم قالن کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال صرف ایک محدود جنگ نہیں بلکہ پورے خطے کو ایک بڑے اور دیرپا بحران کی طرف دھکیل رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس جنگ کے اثرات صرف چند ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اس کے نتائج عالمی سطح پر محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے قیامِ امن کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترکیہ پاکستان کی سفارتی کوششوں اور مذاکراتی اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتکاری ہی واحد مؤثر راستہ ہے۔

ابراہیم قالن نے واضح کیا کہ اگرچہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک پر حملے ناقابل قبول ہیں، لیکن اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ اس جنگ کا آغاز کس نے کیا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور صورتحال کو مزید خراب ہونے سے بچائیں۔

ترک انٹیلی جنس سربراہ نے مزید کہا کہ یہ جنگ ترکیہ، کرد، عرب اور فارسی اقوام کے درمیان طویل المدتی تقسیم کا سبب بن سکتی ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ جائے گا۔ ان کے مطابق ایران کے خلاف ماضی میں ہونے والی محدود جنگیں دراصل موجودہ بڑے تصادم کی تیاری کا حصہ تھیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر جنگ جاری رہی تو لبنان، شام، فلسطین اور دیگر علاقوں میں نئے جغرافیائی اور سیاسی حقائق جنم لے سکتے ہیں، جبکہ اس تنازع کی قیمت پوری دنیا کو چکانا پڑ سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق ابراہیم قالن کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، اور فوری سفارتی اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔