کوئٹہ:
ژوب پولیس نے غیر قانونی شکار کے خلاف بڑی کارروائی کرتے ہوئے کونج کے شکار میں ملوث شکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا اور ان کا مکمل سامان ضبط کر لیا۔
تفصیلات کے مطابق تھانہ صافی کے ایس ایچ او کوٹ عبدالرحمن مندوخیل کی قیادت میں پولیس ٹیم نے دریائے ژوب کے کنارے رات گئے اچانک چھاپہ مارا، جہاں غیر قانونی شکار کرنے والوں نے کیمپ قائم کر رکھا تھا۔ پولیس کے پہنچنے پر شکاری فرار ہونے کی کوشش کرنے لگے تاہم پولیس نے علاقے کا گھیراؤ کر کے انہیں فرار ہونے کا موقع نہ دیا۔
کارروائی کے دوران پولیس نے کیمپ سے خیمے، جدید شکار کے ہتھیار، نیٹس، لائٹس، آگ جلانے کا سامان اور دیگر آلات قبضے میں لے کر تھانے منتقل کر دیے۔ گرفتار افراد کی تعداد اور شناخت تاحال ظاہر نہیں کی گئی، تاہم ذرائع کے مطابق یہ ایک منظم گروہ تھا جو کئی روز سے خفیہ طور پر شکار میں مصروف تھا۔
ڈی پی او شوکت علی مہمند نے کہا کہ ژوب کا علاقہ نایاب پرندوں کی پناہ گاہ ہے اور غیر قانونی شکار کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے ایسی کارروائیاں جاری رہیں گی۔
ایس ایچ او کوٹ عبدالرحمن مندوخیل کے مطابق شکاری جدید ٹیکنالوجی استعمال کر رہے تھے تاہم پولیس نے بروقت کارروائی کر کے ان کے عزائم ناکام بنا دیے، مزید تفتیش جاری ہے۔
واضح رہے کہ کونج (ڈیموائزل کرین) پاکستان میں ایک محفوظ پرندہ ہے جو سردیوں میں بڑی تعداد میں ژوب اور دیگر علاقوں کا رخ کرتا ہے تاہم غیر قانونی شکار کے باعث اس کی تعداد میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔