اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے کرپشن الزامات کے مقدمات میں نیتن یاہو کی جانب سے دائر کی گئی معافی کی درخواست کو وزارتِ انصاف کو واپس بھجوا دیا ہے اور مزید قانونی مواد طلب کر لیا ہے۔
اسرائیلی صدر کے قانونی مشیر کے مطابق اس معاملے پر حتمی فیصلہ کرنے سے پہلے مزید قانونی اور عدالتی نظائر کا جائزہ لینا ضروری ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ جاری عدالتی کارروائی کے دوران معافی دینے کے اختیارات سے متعلق ماضی کی مثالوں اور اضافی قانونی پہلوؤں کو سمجھنا اہم ہے، خاص طور پر ایسے کیسز میں جہاں سکیورٹی اور سفارتی عوامل بھی شامل ہوں۔
حکام کا کہنا ہے کہ درخواست واپس بھیجنے کا مقصد صرف پیشہ ورانہ اور قانونی جائزے کو مکمل کرنا ہے، اس اقدام کو کسی حتمی فیصلے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب امریکا کے معروف سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے نیتن یاہو کی مبینہ کرپشن سے متعلق ایک دستاویزی فلم جاری کر دی ہے۔ اس فلم میں اسرائیلی پولیس کی تحقیقات سے حاصل کردہ ایک ہزار سے زائد آڈیو اور ویڈیو ٹیپس شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اس دستاویزی فلم پر اسرائیل میں پابندی عائد کر دی گئی ہے، جبکہ بین الاقوامی سطح پر اس معاملے پر بحث جاری ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت نیتن یاہو کے خلاف جاری قانونی اور سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ کر سکتی ہے۔