لیڈی ولنگڈن اسپتال میں دورانِ آپریشن ویڈیو بنانے اور سیکیورٹی گارڈ کے مریض کو غیر قانونی طور پر اینستھیزیا لگانے کے واقعات کے بعد محکمہ صحت پنجاب نے متعلقہ سینیئر افسران کو انکوائری آفیسر مقرر کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق سیکریٹری لوکل گورنمنٹ شکیل احمد میاں اور سیکرٹری قانون و پارلیمانی امور آصف بلال لودھی کو انکوائری آفیسر مقرر کیا گیا تاکہ ذمہ داران کے خلاف شوکاز نوٹسز کی شنوائی کی جا سکے۔
پروفیسر ڈاکٹر عظمٰی حسین (BS-20)، ڈاکٹر فرح انعام (BS-19)، ڈاکٹر اقراء حفیظ، اقراء زاہد، فوزیہ رشید اور حسیب الرؤف سمیت دیگر عملے کو پیڈا ایکٹ 2006 کے سیکشن 7(B) اور سیکشن 5(1)(A) کے تحت شوکاز نوٹس جاری کیے گئے۔
پروفیسر ڈاکٹر عظمٰی حسین، شعبہ گائنی کی سربراہ کے طور پر نگرانی میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے ماتحت عملے کا غیر اخلاقی رویہ سامنے آیا، ڈاکٹر فرح انعام، بطور ایم ایس انتظامیہ اور SOPs پر عملدرآمد کی ذمہ دار تھیں، لیکن مناسب نگرانی میں ناکام رہیں، جس کی وجہ سے سی-سیکشن کے دوران غیر پیشہ ورانہ رویہ ہوا۔
ڈاکٹر اقراء حفیظ، ڈاکٹر اقراء زاہد اور ڈاکٹر فوزیہ رشید واقعے میں ملوث پائیں گئیں، جنہوں نے سی-سیکشن کے طریقہ کار پر شرط لگانے کے واقعات میں حصہ لیا، حسیب الرؤف (باورچی) آپریشن تھیٹر کے باہر ہونے کے باوجود غیر متعلقہ سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا۔
سیکیورٹی گارڈ کے مریض کو بے ہوشی کے ٹیکے کے واقعے پر ڈاکٹر منیر حسین (BS-19)، ڈاکٹر فرح انعام، ڈاکٹر روطابہ خالد، ڈاکٹر منزہ ناہید، ڈاکٹر درِ شہوار ارم اور عظمٰی حسن کو شوکاز نوٹس جاری کیے گئے، ویڈیو کے مطابق ایک سکیورٹی گارڈ کو آپریشن تھیٹر میں مریض کو اینستھیزیا دینے کی اجازت دی گئی، جو صرف تربیت یافتہ عملہ دے سکتا ہے، متعلقہ ڈاکٹرز کی ناکامی اور غیر مناسب نگرانی کے باعث مریض کی جان کو خطرہ لاحق ہوا اور ہسپتال کی ساکھ متاثر ہوئی۔
تمام ذمہ داران کو سات دن کے اندر تحریری جواب دینے کا حکم دیا گیا تاکہ پیڈا ایکٹ کے تحت مناسب کارروائی کی جا سکے۔
صوبائی وزیر صحت خواجہ سلمان رفیق نے کہا کہ اس طرح کا طرزِ عمل طبی اخلاقیات، پیشہ ورانہ معیارات اور مقررہ ضابطہ اخلاق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جو مریض کے وقار کو مجروح کرتا ہے اور حساس صحت کی دیکھ بھال کی ذمہ داریوں پر مامور عوامی ملازمین کے لیے نامناسب رویے کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مذکورہ فعل سنگین بدعنوانی، نااہلی اور انتظامی ناکامی کی نشاندہی کرتا ہے جو صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچانے کے مترادف ہے۔
موبائل فون استعمال پر پابندی
لیڈی ولنگڈن ہسپتال میں آپریشن تھیٹر سے وائرل ویڈیو کے معاملے پر انتظامیہ نے دورانِ ڈیوٹی اسٹاف کے موبائل فون استعمال پر پابندی عائد کر دی۔
اسپتال انتظامیہ کے مطابق کوئی بھی اہلکار ڈیوٹی کے دوران موبائل فون استعمال کرتا پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور ملازمت سے بھی فارغ کیا جا سکتا ہے۔
انتظامیہ نے موبائل فون پر پابندی سے متعلق باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ نوٹیفکیشن جنوری کے مہینے میں جاری کیا گیا تھا جسے متعلقہ حکام کو ارسال بھی کر دیا گیا ہے۔