مشرق وسطیٰ کے حوالے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک نازک اور حساس مرحلہ ہے۔ ایک طرف پاکستان کے ایران کے ساتھ قریبی جغرافیائی‘تجارتی اور ثقافتی تعلقات ہیں، جب کہ دوسری طرف امریکا کے ساتھ تجارتی اور اسٹریٹیجک تعلقات بھی انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔
پاکستان میں ان دونوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے اب تک اپنی خارجہ پالیسی کو انتہائی متوازن انداز میں آگے بڑھایا ہے۔موجودہ حالات میں کیونکہ جنگ کا ماحول ہے لہٰذا اس توازن کو برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج ہے۔ پاکستان کو نہ صرف اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرنا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ ایوانِ صدر میں ہونے والا اعلیٰ سطح اجلاس اسی تناظر میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ سیاسی اور عسکری قیادت کا ایک میز پر بیٹھ کر اس صورتحال کا جائزہ لینا اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اس بحران کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ اس اجلاس میں نہ صرف موجودہ صورتحال کا تجزیہ کیا جائے گا بلکہ مستقبل کے لیے حکمت عملی بھی طے کی جائے گی۔
دوسری جانب واشنگٹن سے آنے والے حالیہ بیانات نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے اس پیچیدہ اور حساس چہرے کو بے نقاب کر دیا ہے جہاں الفاظ محض الفاظ نہیں ہوتے بلکہ طاقت، حکمت عملی اور مستقبل کے ممکنہ اقدامات کا پیش خیمہ ہوتے ہیں۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تیل ذخائر پر قبضے اور اس کی اہم تنصیبات کو بآسانی اپنے کنٹرول میں لینے کے دعوے نے نہ صرف عالمی سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ مشرقِ وسطیٰ جیسے پہلے ہی کشیدہ خطے میں ایک نئی بے چینی کو جنم دیا ہے۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ ہورہی ہے،اس انتہائی اہم اور نازک مرحلے کے دوران کسی بھی غلط قدم کے نتیجے میں جنگ کا دائرہ پھیلنے کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا بلکہ قیام امن کے لیے جو کوشیں ہو رہی ہیں ‘انھیں بھی نقصان پہنچنے کے اندیشہ ہو سکتا ہے کیونکہ ایران کی وہ قیادت جو جنگ بندی کے لیے تیار ہے‘ وہ بھی مشکل سے دوچار ہو جائے گی۔ آج امریکی صدر ایران کے تیل پر قبضے کی بات کرتے ہیں تو یہ محض ایک وقتی بیان نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری کشمکش کا تسلسل محسوس ہوتا ہے۔ ایران دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور اس کے توانائی کے ذخائر عالمی معیشت کے لیے نہایت اہم ہیں۔
ایسے میں کسی بھی قسم کی فوجی مداخلت یا قبضے کی کوشش نہ صرف ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ خارگ جزیرہ، جسے ایران کی تیل برآمدات کا اہم ترین مرکز سمجھا جاتا ہے، اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکا ہے۔ اگر اس تنصیب کو نشانہ بنایا جاتا ہے یا اس پر قبضے کی کوشش کی جاتی ہے تو یہ ایران کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ہوگا، مگر اس کے ساتھ ساتھ عالمی توانائی کی سپلائی بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اچانک اضافہ، عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال اور توانائی کے بحران جیسے مسائل فوری طور پر سامنے آ سکتے ہیں۔
یہ صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے خاص طور پر تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں۔آبنائے ہرمز کی اہمیت بھی اس تناظر میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ دنیا کے تقریباً ایک تہائی تیل کی ترسیل کا راستہ ہے۔ اگر یہاں کسی قسم کی کشیدگی یا فوجی کارروائی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جائیں گے۔ امریکی صدر کی جانب سے اس خطے میں اپنی برتری کا دعویٰ اور ایران کی جانب سے دفاعی تیاریوں کے اشارے، دونوں مل کر ایک خطرناک صورتحال کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دوسری جانب ایران کا ردعمل بھی کسی طور کم اہم نہیں۔ ایران نے نہ صرف امریکی بیانات کو مسترد کیا ہے بلکہ امریکا پر زمینی حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ اس طرح کے الزامات اور جوابی بیانات صورتحال کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ جب دونوں فریق ایک دوسرے پر الزامات لگاتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ مذاکرات کی بات بھی کرتے ہیں تو یہ تضاد عالمی برادری کے لیے ایک الجھن پیدا کرتا ہے۔
کیا واقعی مذاکرات کی کوئی سنجیدہ کوشش ہو رہی ہے یا یہ محض وقت حاصل کرنے کی حکمت عملی ہے؟عالمی سطح پر اس صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔ آسٹریلیا کے وزیر اعظم کی جانب سے امریکی صدر سے جنگ کے مقاصد کے بارے میں وضاحت طلب کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ حتیٰ کہ امریکا کے قریبی اتحادی بھی اس پالیسی سے مطمئن نہیں ہیں۔ یورپی ممالک بھی اس کشیدگی پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کے فوجی تصادم سے بچنے کے خواہاں ہیں۔ چین اور روس جیسے ممالک بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور وہ خطے میں اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
یہ تمام عوامل اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی مسئلہ بن چکا ہے۔ اگر اس کشیدگی کو بروقت قابو نہ کیا گیا تو یہ ایک بڑے عالمی تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے جس میں کئی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اس بحران کے اثرات انتہائی گہرے ہو سکتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ ترقی پذیر ممالک کے لیے بھی مشکلات پیدا کرے گا۔ مہنگائی میں اضافہ، کرنسی کی قدر میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافہ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ عالمی سرمایہ کاری بھی متاثر ہو سکتی ہے کیونکہ غیر یقینی صورتحال سرمایہ کاروں کو محتاط بنا دیتی ہے۔
اسی تناظر میں اسلام آباد میں ہونے والی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اس امر کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان ایک بار پھر خطے میں امن کے قیام کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش نہ صرف ایک اہم پیش رفت ہے بلکہ یہ پاکستان کی سفارتی اہمیت اور عالمی سطح پر اس کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ ایسے وقت میں جب مشرق وسطیٰ شدید کشیدگی کا شکار ہے، پاکستان کا یہ اقدام ایک مثبت اور بروقت پیشکش کے طور پر سامنے آیا ہے۔
چار فریقی اجلاس میں سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلم دنیا کے اہم ممالک خطے کی صورت حال پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔ اجلاس میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ جاری جنگ نہ صرف انسانی المیے کو جنم دے رہی ہے بلکہ اس کے معاشی اثرات بھی پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ اس تناظر میں مسلم امہ کے اتحاد پر زور دینا ایک حقیقت پسندانہ اور ضروری مؤقف ہے۔ عالمی سطح پر توانائی کے شعبے میں بھی غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے۔ روس کی جانب سے پیٹرول کی برآمدات پر عارضی پابندی نے عالمی منڈیوں میں مزید بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس فیصلے کے اثرات خاص طور پر چین، برازیل اور دیگر درآمدی ممالک پر مرتب ہوں گے، جب کہ پہلے سے جاری مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔ توانائی کی یہ غیر مستحکم صورتحال ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔
ممکنہ مستقبل کے منظرناموں پر غور کیا جائے تو کئی امکانات سامنے آتے ہیں۔ ایک امکان یہ ہے کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہو جائیں اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں کمی آ جائے۔ دوسرا امکان یہ ہے کہ محدود پیمانے پر فوجی جھڑپیں ہوں جو بعد میں کسی سمجھوتے پر ختم ہو جائیں۔ تاہم سب سے خطرناک امکان ایک مکمل جنگ کا ہے جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ سفارتکاری، مکالمہ اور باہمی احترام ہی وہ راستے ہیں جو اس طرح کے تنازعات کو حل کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ موجودہ صورتحال ایک آزمائش ہے، نہ صرف امریکا اور ایران کے لیے بلکہ پوری دنیا کے لیے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آیا عالمی قیادت اس بحران کو دانش مندی سے سنبھالتی ہے یا یہ ایک بڑے تصادم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جنگیں مسائل کا حل نہیں بلکہ نئے مسائل کو جنم دیتی ہیں، اگر دنیا نے اس سبق کو نظر انداز کیا تو اس کے نتائج نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔