تاریخ اقوام عالم شاہد ہے کہ جب کوئی ملک اپنی انتظامی اور سفارتی حکمت عملی کھو بیٹھتا ہے تو اس کا بین الاقوامی تشخص دنیا کے سامنے سوالیہ نشان بن کر رہ جاتا ہے۔اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی حالیہ قرارداد 2818 محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی ایک بار پھر گونجتی ہوئی صدا ہے۔
ایک ایسی صدا جو تقریباً تین دہائیوں سے مسلسل دہرائی جا رہی ہے، مگر جس کا عملی اثر اب تک محدود ہی دکھائی دیتا ہے۔ 1999 میں منظور ہونے والی قرارداد 1267 سے لے کر آج تک، افغانستان کے حوالے سے بین الاقوامی تشویش کی نوعیت میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہے؟ کیا مسئلہ صرف جغرافیہ کا ہے، یا پھر حکمرانی، نظریات اور عالمی سیاست کے پیچیدہ امتزاج نے اس بحران کو مستقل شکل دے دی ہے؟
1999 کی قرارداد 1267 میں طالبان حکومت کو القاعدہ جیسے دہشت گرد نیٹ ورکس کو پناہ دینے پر واضح طور پر موردِ الزام ٹھہرایا گیا تھا۔ اس وقت عالمی برادری نے ایک متفقہ مؤقف اپنایا کہ افغان سرزمین کو بین الاقوامی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ عزم کمزور پڑتا گیا، یا یوں کہیے کہ زمینی حقائق اس عزم کے برعکس ثابت ہوتے رہے۔ آج 2026 میں، قرارداد 2818 اسی خدشے کو نئے الفاظ میں دہرا رہی ہے کہ داعش خراسان، القاعدہ، ای ٹی آئی ایم، ٹی ٹی پی اور بی ایل اے جیسے گروہ بدستور افغانستان کی سرزمین سے سرگرم ہیں۔
یہ تسلسل کسی ایک واقعے یا پالیسی کی ناکامی نہیں بلکہ ایک گہرے اور مستقل مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ افغانستان، اپنی جغرافیائی حیثیت، تاریخی تناظر اور سیاسی عدم استحکام کے باعث طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے۔ مگر اس سے بھی زیادہ اہم عنصر وہاں کی داخلی حکمرانی کا بحران ہے۔ طالبان کی واپسی کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ وہ عالمی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک ذمے دار ریاستی کردار ادا کریں گے، لیکن موجودہ صورتحال اس کے برعکس تصویر پیش کرتی ہے۔
سلامتی کونسل کی قرارداد 2818 دراصل اسی مایوسی کا اظہار ہے۔ اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کے لیے پناہ گاہ، تربیت گاہ یا معاونت کے مرکز کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مگر عملی طور پر صورتحال یہ ہے کہ مختلف عسکریت پسند گروہ نہ صرف اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں بلکہ بعض رپورٹس کے مطابق وہ اپنی آپریشنل صلاحیت بھی بڑھا رہے ہیں۔
یہ امر نہ صرف خطے کے ممالک کے لیے خطرہ ہے بلکہ عالمی امن کے لیے بھی ایک سنجیدہ چیلنج بن چکا ہے۔مزید تشویشناک پہلو یہ ہے کہ طالبان قیادت اس تمام تر صورتحال میں ذمے داری قبول کرنے کے بجائے ایک دفاعی اور بعض اوقات جارحانہ بیانیہ اختیار کیے ہوئے ہے۔ دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو بیرونی مداخلت یا جارحیت قرار دینا، اور ساتھ ہی شہری نقصانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا، ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ معلوم ہوتا ہے جس کا مقصد اصل مسئلے سے توجہ ہٹانا ہے۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف بین الاقوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے بلکہ افغانستان کی داخلی صورتحال کو بھی مزید پیچیدہ بناتا ہے۔
یہاں ایک اور اہم پہلو حکمرانی کا بھی ہے، جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ خواتین کی تعلیم، روزگار اور سماجی شرکت پر عائد پابندیاں نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی اشارہ ہیں کہ طالبان حکومت اب بھی ایک جامع اور شمولیتی نظام قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عالمی برادری کے لیے یہ عوامل طالبان کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور ان کے وعدوں پر شکوک و شبہات کو جنم دیتے ہیں۔
در حقیقت افغانستان کا مسئلہ محض دہشت گردی تک محدود نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت بحران ہے جس میں سیکیورٹی، حکمرانی، انسانی حقوق اور علاقائی سیاست سب شامل ہیں۔ قرارداد 2818 اس بات کا واضح پیغام دیتی ہے کہ دنیا اب بھی افغانستان کو ایک ممکنہ خطرے کے طور پر دیکھ رہی ہے نہ کہ ایک مستحکم اور ذمے دار ریاست کے طور پر، تاہم یہ تاثر تبدیل کیے بغیر نہ تو افغانستان عالمی برادری کا اعتماد حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکتا ہے۔
اب یہاں سوال یہ بھی اٹھتا ہے کہ عالمی برادری کا کردار کیا ہونا چاہیے؟ کیا صرف قراردادیں منظور کرنا کافی ہے یا پھر ایک مؤثر اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے؟ ماضی کا تجربہ بتاتا ہے کہ محض بیانات اور پابندیاں مسئلے کا حل نہیں ہیں۔ اس کے لیے ایک جامع اپروچ درکار ہے جس میں سفارتی دباؤ، اقتصادی مراعات، اور علاقائی تعاون سب شامل ہوں۔ ساتھ ہی، افغانستان کے اندر ایک ایسا سیاسی اور سماجی ڈھانچہ تشکیل دینا بھی ضروری ہے جو تمام طبقات کی نمائندگی کرے اور شدت پسندی کے بیانیے کو کمزور کرے۔
پاکستان جیسے ہمسایہ ممالک کے لیے یہ صورتحال خاص طور پر اہم ہے۔ سرحد پار دہشت گردی، مہاجرین کا مسئلہ، اور علاقائی استحکام جیسے عوامل براہِ راست پاکستان کی سلامتی اور معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے پاکستان کی پالیسیوں میں توازن، حقیقت پسندی اور دور اندیشی ناگزیر ہے۔ ایک طرف سیکیورٹی خدشات کا مؤثر جواب دینا ضروری ہے، تو دوسری طرف سفارتی سطح پر افغانستان کے ساتھ رابطے کو بھی برقرار رکھنا ہوگا۔
بالآخر یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ قرارداد 2818 ایک بار پھر دنیا کو یہ یاد دلاتی ہے کہ افغانستان کا مسئلہ ابھی حل نہیں ہوا۔ یہ ایک جاری بحران ہے، جو وقتاً فوقتاً نئی شکلوں میں سامنے آتا رہے گا اگر اس کے بنیادی اسباب کو دور نہ کیا گیا۔ طالبان حکومت کے لیے یہ ایک موقع بھی ہے اور ایک امتحان بھی،موقع اس لیے کہ وہ عالمی برادری کا اعتماد بحال کر سکتی ہے، اور امتحان اس لیے کہ اگر وہ اس بار بھی ناکام رہی تو افغانستان ایک بار پھر تنہائی، عدم استحکام اور بداعتمادی کے دائرے میں قید ہو جائے گا۔اب دنیا بدل چکی ہے، مگر افغانستان کے حوالے سے خدشات اب بھی وہی ہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا اس بار بھی تاریخ خود کو دہرائے گی، یا پھر کوئی نیا راستہ تلاش کیا جائے گا؟