بائیں شائیں تو ہوتی رہیں گی یہ کشمیر یہ یک جہتی، یہ اسرائیل یہ امریکا بھی چلتے رہیں گے۔یہ بانی، یہ وژن، یہ سیاست ،یہ جمہوریت، یہ وزیر مشیر معاون اور ان کی پیاری خوشخبریاں بھی رہیں گی اور ان پر ہماری دانائی دانشوری کے طومار بھی ایسے چلتے رہیں گے۔
تم شہر میں ہوتے ہو تو کیا غم جب اٹھیں گے
لے آئیں گے بازار سے جاکر دل وجاں اور
آج چلیے تھوڑی بہت قصہ کہانی کرلیتے ہیں۔ ایک بڑی اچھی سی پیاری سی راج دلاری سی کہانی یاد آرہی ہے لیکن کہانی تو کہانی ہوتی ہے کہانی میں تاریخ یا مقام وغیرہ نہیں ڈھونڈے جاتے۔اس میں بادشاہ ہوتے ہیں شہزادے شہزادیاں ہوتی ہیں دیو پریاں بھی ہوتی ہیں، جادوگر اور ساحر بھی ہوتے ہیں لیکن مقامات اور زمانے نہیں ہوتے کہ یہ کب ہوا تھا کہاں ہوا تھا،مثلاً ایک زمانے سے ہم پرستان کی کہانیاں سنتے ہیں لیکن یہ کبھی کسی نے نہیں پوچھا کہ پرستان کہاں ہے، کس طرف ہے، وہاں کیسے آیا جاتا ہے، علی بابا کہاں تھا وہ چالیس چوروں کا غار کہاں تھا اور وہ اس کا کوڈ’’کھل جا سم سم‘‘ کیوں تھا اور اس میں یہ اتنی تاثیر اور حساسیت کیسے تھی۔پھر وہ چالیس چور کیا ہوا ان کا غار کیا ہوا، ٹھیک ہے بعض لوگ بعض کہانیوں میں پوچھ لیتے ہیں کہ گل نے صنوبر کے ساتھ کیا کیا تھا اور صنوبر نے گل کے ساتھ کیا کیا لیکن پھر بھی کہانی کہانی ہوتی ہے۔مطلب یہ کہ آپ کو آم کھانے سے غرض ہونا چاہیے پیڑ گننے سے نہیں۔کہانی سننے والوں کو یہ کہنے کی تو اجازت ہوتی ہے کہ’’پھرکیا ہوا‘‘ لیکن یہ اجازت ہر گز نہیں کہ کیوں ہوا،کیسے ہوا اور کہاں ہوا، کب ہوا کیسے یہ غصب ہوا۔
اب ہم جو کہانی سنانا چاہ رہے ہیں۔اس میں ایک تھی چڑیا۔اب یہ پوچھنا آپ کا کام نہیں کہ وہ چڑیا کہاں تھی۔تو ایک تھی چڑیا جو سونے کے انڈے دیتی تھی اب اگر سننے والا یہ پوچھنا شروع کردے۔کہ کیوں؟ آخر وہ سونے کے انڈے کیوں دیتی تھی کیا اس کے اندر سونے کی کان تھی یا کوئی سنار بیٹھا تھا جو سونے کے انڈے بناتا تھا۔یا یہ کہ وہ انڈے کتنے کتنے گرام یا تولے کے ہوتے تھے یا اس وقت بازار میں سونے کا بھاؤ کیا تھا۔بس اتنا آپ کے لیے کافی ہے کہ وہ جو چڑیا تھی وہ سونے کے انڈے دیتی تھی عام انڈے نہیں۔ظاہر ہے کہ جب وہ سونے کے انڈے دیتی تھی تو شکاری بھی اس کے پیچھے لگے ہوں گے جیسے لیلا کے پیچھے لگے ہوتے تھے اور اس بیچاری کو گانا چڑا تھا کہ
لیلیٰ میں لیلیٰ ایسی ہوں لیلیٰ
ہر کوئی چاہے مجھ سے ملنا اکیلا
تو بہت سے شکاری اس چڑیا کے پیچھے لگے ہوئے تھے اور چاہتے تھے کہ اس چڑیا کو پکڑ کر اپنے پنجرے والی مُنیا میں بندکردیں۔یعنی اسے قفس میں اسیر کرکے اس کے انڈے حاصل کریں۔لیکن ہر مدعی کے واسطے دارورسن کہاں۔
اب اپنے ہاں لیجیے کتنے ہیں جو اس ’’مینڈیٹ‘‘ نام کی چڑیا کو شکار کرنے نکلتے ہیں اور اسے پکڑنے اور اپنے پنجرے کا اسیر کرکے اس کے انڈوں کے املیٹ۔خاگینہ اور برمی کھانا چاہتے ہیں یا ٹوکریوں میں جمع کرکے بچنا چاہتے ہیں لیکن
ساقی سبھی کو ہے غم تشنہ لبی مگر
مے ہے اسی کی نام پہ جس کے اُبل پڑے
ہاں تو اس سونے کے انڈے دینے والی چڑیا کے بھی بہت سارے شکاری تھے لیکن بازی صرف ایک شکاری لے گیا کہ اس نے چڑیا کو شکار کرنے کی بجائے خود کو اس کا شکار بنایا یا ایسا پوز کیا ایک شکاری سب پر حاوی نکلا۔اس نے چڑیا اور اس کی ماں کو یقین دلایا کہ میں تو صرف چڑیا کی چہچہاہٹ کا عاشق ہوں اس کے انڈوں کا نہیں۔چڑیا بے شک اپنے ہی پنجرے میں رہے اور انڈے دیا کرے، میں اس کے انڈوں کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں، صرف اس کے ساتھ اس کے پنجرے میں بیٹھا رہوں گا۔اسے دیکھتا رہوں گا اور پیاری پیاری میٹھی میٹھی سریلی چہچہاہٹ سنتا رہوں گا، بس
مرتا ہوں اس آواز پہ ہر چند سر اڑجائے
جلاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
اس کا یہ پینترہ کامیاب ہوا اور اسے چڑیا کی قربت ہم نشینی ہم نفسی بلکہ ہم قفسی میسر آگئی، ایک شکاری سب پر حاوی ہوگیا۔لیکن یہ بات نہ چڑیا کو معلوم تھی نہ کسی اور کو بلکہ شکاریوں کو بھی نہیں جو اسے اپنے چند خاص نجومیوں سے حاصل ہوئی تھی کہ چڑیا صرف سونے کے انڈے نہیں دیتی بلکہ اس میں ایک اور گُن بھی ہے اور وہ یہ کہ اگر کوئی اس کا‘‘سر‘‘ کھائے تو وہ بادشاہ بنے گا۔اب چڑیا تو اس کے دسترس میں تھی لیکن اگر ایسے ہی پکڑکر ذبح کرتا اور اس کا سر بھون کر یا پکا کر کھاتا تو الزام اس پر آتا۔یعنی وہ ایسا کرنا چاہتا تھا کہ نہ سیخ جلے نہ کباب۔چنانچہ اس نے چند شکاریوں کو گانٹھ لیا اور ان کو یہ جھانسہ دیا کہ تم کو اس کے انڈے دے دوں گا۔
شکاری راضی ہوگئے ان میں بڑے گھاگ شکاری اور نہایت ہی ماہر نشانہ باز تھے، اس لیے انھوں نے بڑی دور سے کسی خفیہ مقام سے ایسا ٹھیک ٹھیک نشانہ لگاکر’’تیر‘‘مارا کہ مہا بھارت کے ارجن اور درون اچاریہ بھی حیران رہ گئے ہوں گے۔ ارجن مہابھارت کا ایک پانڈو تھا اور اسے اس کے استاد درون اچاریہ نے بلا کا ماہر تیرانداز بنایا تھا۔ بیچ میں یہ کہانی آگئی ہے تو اسے بھی سن لیجیے۔جب مشہور و معروف خاتون شہزادی درویدی کا سوئمبر ہورہا تھا تو اس سوئمبر کی شرط یہ تھی کہ نیچے تیل کی کڑاھی میں دیکھ کر اوپر ایک گھومتی ہوئی مچھلی کی آنکھ میں تیر مارا جائے اور ارجن نے یہ کردکھایا یہاں بھی۔ایسے ہی ایک ماہر تیرانداز نے سونے کی چڑیا کو تیرماردیا۔ہاہا کار مچی، بہت شور شرابا ہوا، بہت سارے ماہرین نے تیرانداز کو ڈھونڈنے کی کوشش کی لیکن تیرانداز کا پتہ نہیں چلا۔ یہاں وہاں کچھ زندہ مردہ لوگوں کے نام لیے گئے لیکن پتہ نہیں چلا۔چنانچہ چڑیا کے ہم نشین شکاری نے آنسو بہابہا کر نہایت دکھ کے ساتھ اس کا سربھون کرکھالیا۔اب اگر آگے بھی پوچھیں گے کہ پھر کیا ہوا۔تو آپ سے بڑا سٹوپڈ اور کوئی نہیں۔ وہی ہوا جو شکاری نے چاہا۔اور کیا؟
تلاش منزل جاناں تو اک بہانہ تھا
تمام عمر ’’میں‘‘اپنی طرف’’روانہ‘‘ تھا