خیبرپختونخوا ہاؤس اسلام آباد میں وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت جوائنٹ اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں قبائلی اضلاع کے تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں وفاقی وزراء احسن اقبال، امیر مقام، مبارک زیب اور وزیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم سمیت دیگر حکام شریک ہوئے۔
صوبائی وزیر سہیل آفریدی نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے تیز رفتار ترقیاتی منصوبوں کے لیے 30.3 ارب روپے کی برج فنانسنگ فراہم کی ہے جبکہ وفاق کی جانب سے رواں سال اے آئی پی کے تحت ایک روپے کی بھی ریلیز نہیں ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ وفاق کی جانب سے 20 ارب روپے جاری کرنے کا عندیہ قبائلی اضلاع کی ترقی کے لیے اہم قدم ہے اور ہائی امپیکٹ منصوبوں کے لیے 9.3 ارب روپے جلد جاری کرنے کی یقین دہانی بھی خوش آئند ہے۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ فنڈز ضم اضلاع میں پولیس انفراسٹرکچر اور تکمیل کے قریب ہائی پرایارٹی منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔ صوبائی حکومت نے پولیس کی استعداد بڑھانے اور جدید سازوسامان کے لیے 28 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔ ضم اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن منصوبے میں زیادہ آبادی کو فائدہ دینے کے لیے صوبہ بھی حصہ ڈالنے کو تیار ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ قبائلی اضلاع کو طویل عرصے سے نظر انداز کیا گیا اور گزشتہ سات سال میں 1375 ارب روپے دیگر صوبوں میں تقسیم ہوئے۔
اس موقع پر وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ قبائلی اضلاع کے این ایف سی شیئر سے متعلق وزیر اعظم کو خط لکھا جا چکا ہے اور ضم اضلاع کا حصہ نہ دینا ناانصافی ہے، خیبرپختونخوا کو اپنے پورے مالی وسائل ملنے چاہئیں۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ ضم اضلاع میں گھروں کی سولرائزیشن کے لیے نئی اے ڈی پی اسکیم کی سمری منظور کر لی گئی ہے اور پی ڈی ڈبلیو پی اجلاس میں پی سی ون پیش کیا جائے گا۔
فاٹا یونیورسٹی کی اسٹرینتھنگ کے لیے پی سی ون منظور کیا جا چکا ہے جس کے تحت 2.5 ارب روپے جاری ہو چکے ہیں جبکہ پولیس انفراسٹرکچر کے قیام کے لیے جاری 7 ارب روپے بھی خرچ کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں ضم اضلاع میں ایک ہزار نوجوانوں کو ٹیکنیکل اسکلز اور انٹرنشپ کے مواقع فراہم کرنے کے ترقیاتی منصوبے پر بھی غور کیا گیا۔