ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ صرف زمین اور فضا تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا ایک ایسا اثر بھی ہے جو آپ کے اسمارٹ فون اور کمپیوٹر کی اسکرین تک پہنچ سکتا ہے، چاہے آپ اس خطے سے ہزاروں میل دور ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ اس وقت دنیا بھر میں انٹرنیٹ صارفین کو جس بڑے خطرے کا سامنا ہے، وہ ہے زیرِ سمندر بچھے ہوئے ’کمیونیکیشن کیبلز‘ کا نیٹ ورک۔
آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دنیا کا تقریباً 99 فیصد بین الاقوامی ڈیٹا ٹریفک سیٹلائٹ کے بجائے سمندر کی تہہ میں بچھی ہوئی فائبر آپٹک کیبلز کے ذریعے سفر کرتا ہے۔ اس وقت دنیا کی طویل فاصلے کی ڈیٹا ٹریفک کا ایک بڑا حصہ خلیجِ فارس، آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر یعنی ریڈ سی کے راستے سے گزرتا ہے۔ یہ وہ علاقے ہیں جو اس وقت براہِ راست جنگ کی زد میں ہیں۔ اگر یہ کیبلز سمندری بارودی سرنگوں، بحری جہازوں کے اینکرز یا جان بوجھ کر کی جانے والی تخریب کاری کا شکار ہوتی ہیں، تو عالمی انٹرنیٹ ٹریفک کو طویل اور زیادہ پیچیدہ راستوں پر منتقل کرنا پڑے گا۔ اس کا مطلب ہے انٹرنیٹ کی رفتار میں شدید کمی، ڈیٹا کی منتقلی میں تاخیر اور مشرقِ وسطیٰ سے بہت دور واقع ممالک میں بھی انٹرنیٹ کا مکمل بلیک آؤٹ۔
بحیرہ احمر کا راستہ دنیا کے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کے لیے ’شہ رگ‘ کی حیثیت رکھتا ہے، جہاں سے ایشیا اور یورپ کو ملانے والی تقریباً 15 سے 17 بڑی کیبلز گزرتی ہیں۔ صرف ایک کیبل کے کٹنے سے پورے براعظم کی انٹرنیٹ سروسز متاثر ہو سکتی ہیں۔
اصل مسئلہ صرف کیبل کا ٹوٹنا نہیں ہے، بلکہ اس کی مرمت کا ’ڈیڈ لاک‘ ہے۔ زیرِ سمندر کیبلز کی مرمت کے لیے انتہائی جدید اور مخصوص بحری جہازوں کی ضرورت ہوتی ہے جنہیں ’کیبل ریپیئر ویسلز‘ کہا جاتا ہے۔ جنگی صورتحال اور سمندر میں موجود خطرات کی وجہ سے یہ جہاز ان متاثرہ علاقوں میں داخل نہیں ہو پا رہے۔ جب تک یہ جہاز وہاں نہیں پہنچتے، ٹوٹا ہوا نیٹ ورک بحال نہیں ہو سکے گا، جس کا مطلب ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش ہفتوں یا مہینوں تک طویل ہو سکتی ہے۔ اگر یہ انفراسٹرکچر طویل عرصے تک غیر فعال رہا تو اس کا اثر صرف واٹس ایپ یا یوٹیوب تک محدود نہیں رہے گا، بلکہ عالمی بینکنگ سسٹم، اسٹاک مارکیٹس اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ پر مبنی تمام عالمی سروسز مفلوج ہو کر رہ جائیں گی۔