امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزیتھ نے ایران کو معاہدہ نہ کرنے کی صورت میں تنازع کی شدت میں اضافے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران جنگ آنے والے چند روز میں فیصلہ کن ہوگی۔
غیرملکی خبرایجنسی رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق امریکی سیکریٹری دفاع پیٹ ہیگزیتھ ایران کی جانب سے دبئی کے تیل بردار ٹینکر کو نشانہ بنائے جانے کے چند گھنٹے بعد یہ بیان جاری کیا ہے، جو 28 فروری پر امریکا اور اسرائیل کےحملوں کے بعد خلیج یا آبنائے ہرمز پر تیل کے جہازوں پر شروع کیے گئے حملوں کا نیا سلسلہ ہے۔
پیٹ ہیگزیتھ نے کہا کہ امریکا معاہدہ کرنے کے خواہاں ہیں، مذاکرات جاری ہیں اور فیصلہ کن بھی ہو رہے ہیں لیکن اگر ایران نے شرائط نہیں مانے تو امریکا جنگ جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
امریکی سیکریٹری دفاع ہفتے کو مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں سے ملاقات کرکے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس مزید آپشنز ہیں اور ان کے پاس کم ہیں، صرف ایک مہینے میں ہم نے شرائط رکھی ہیں اور آنے والے چند روز فیصلہ کن ہوں گے، ایران کو یہ معلوم ہے اور وہ فوجی حوالے سے کچھ کر بھی نہیں سکتا ہے۔
پیٹ ہیگزیتھ نے کہا کہ امریکی حملوں سے ایران میں وسیع پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پیٹ ہیگزیتھ نے ایران میں بری فوج اتارنے سے متعلق سوال پر کہا کہ میری سمجھ سے بالاتر کہ بیس کیوں ہے، کیا ٹرمپ پر اعتماد نہیں کہ وہ اس پر عمل درآمد کرپائے گا، اگر ہمیں ضرورت پڑی تو ہم ان آپشنز پر عمل کرسکتے ہیں یا ہوسکتا ہے ہمیں وہ کسی صورت استعمال نہ کرنا پڑیں۔
انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ اس معاملے میں غیرمتوقع رہا جائے۔
امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے صحافیوں کو بتایا کہ امریکا مسلسل ایران کی صلاحیتوں کو کم اور تباہ کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکی فوج بدستور پیداواری اور ریسرچ مقامات پر حملے کر رہا ہے اور ایران کے 150 سے زائد جہاز قبضے میں لے چکے ہیں۔
دوسری جانب ایران مکمل طور پر مزاحمت کر رہا ہے حالانکہ امریکی اور اسرائیلی حملے گزشتہ ایک ماہ سے جاری ہیں اور امریکا کی جانب سے امن کی تجاویز بھی دی گئی ہیں لیکن وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ یہ تجاویز غیرحقیقی، غیرمنطقی اور جارحیت پر مبنی ہیں۔