اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے کہا کہ ایرانی خطرات سے نمٹنے کے لیے اہم ممالک کے ساتھ نیا اتحاد قائم کر رہے ہیں۔
غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظن بینجمن نیتن یاہو نے تقریر میں کہا کہ اسرائیل خطے میں اہم ممالک کے ساتھ نیا اتحاد بنا رہا ہے تاکہ ایرانی خطرے کا انسداد کیا جائے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے خطے میں نئے اتحاد کے حوالے سے ممالک کے نام نہیں بتائے اور نہ مزید تفصیلات سے آگاہ کیا۔
انہوں نے ایک ریکارڈ شدہ بیان میں کہا کہ ایران کے خطے میں اتحادی اب اسرائیل کے لیے خطرہ نہیں رہے ہیں تاہم تسلیم کیا کہ ایران اب بھی اسرائیل پر ڈرونز اور میزائل داغ رہا ہے لیکن یہ کوئی حیثیت نہیں رکھتے ہیں۔
نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل اپنی عسکری مہم ایران کے خلاف مزید تیز کرے گا اور اس وقت جاری رہے گی جب ایران کی دہشت گرد حکومت کا خاتمہ نہ ہوجاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور ہم دہشت گرد حکومت کے خاتمے کے لیے جاری رکھیں گے۔
اسرائیل کا فرانس سے دفاعی درآمدات ختم کرنے کا اعلان
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی وزارت دفاع کے ترجمان نے بتایا کہ فرانس کی پالیسیوں کے جواب میں اسرائیل فرانس سے فوجی درآمدات کم کرکے صفر کرے گا کیونکہ اسرائی کے حوالے سے اس کی پالیسیاں اشتعال انگیز ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ وزارت دفاع کے ڈائریکٹرجنرل امیربرام نے فیصلہ کرلیا ہے کہ فرانس سے دفاعی آلات کی خریداری صفر کی جائے گی اور وہ فنڈ بلینڈ اینڈ وائٹ پروکیورمنٹ یا اتحادی ممالک کے ساتھ خرچ کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ فرانسیسی حکومت کے کئی اقدامات کے جواب میں کیا گیا ہے جو اسرائیل کے لیے جارحانہ تصور کیے جاتے ہیں۔
اسرائیل کی وزارت دفاع نے بھی فرانس پر اسرائیل کی دفاعی سرگرمیوں اور دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک تعاون کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ان اقدامات کو انتہائی سنجیدگی سے پرکھا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ فرانس کی جانب سے پہلے سے ہم آہنگی موجود ہونے اور وضاحت کے باوجود پابندی عائد کی گئی کہ ان کا اسلحہ یا گولہ بارود صرف ایران کے خلاف استعمال کے لیے تھا اور اس بات پر بھی اتفاق تھا کہ یہ اقدام یورپ کی سلامتی کے لیے بھی سود مند ہے۔
دوسری جانب فرانسیسی پارلیمنٹ کے مطابق پیرس کی جانب سے اسرائیل کو کوئی اسلحہ فروخت نہیں کیا جاتا ہے لیکن آلات دفاعی نظام میں استعمال کیے جاتے ہیں یا دیگر ممالک کو دوبارہ برآمد کیے جاتے ہیں۔