سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیلی کام کمپنیوں سے بینک کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغامات مکمل تفصیلات طلب کر لیں تاکہ بڑھتے ہوئے چارجز کی وجوہات کا جائزہ لیا جا سکے اور صارفین کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہونے والے قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کےاجلاس میں بینک صارفین کو بھیجے جانے والے ایس ایم ایس پیغامات پر ٹیلی کام کمپنیوں کی جانب سے وصول کیے جانے والے چارجز کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں بینکنگ ایسوسی ایشن اور اسٹیٹ بینک حکام نے کمیٹی کو بریفنگ دی۔
صدر بینک آف پنجاب نے بتایا کہ بینک صارفین سے دو طرح کے چارجز وصول کیے جاتے ہیں جن میں ریگولیٹری اور اختیاری چارجز شامل ہیں ان کے مطابق ریگولیٹری چارجز اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے تحت لازمی ہوتے ہیں جبکہ صارف کی مرضی سے بھیجے جانے والے پیغامات پر علیحدہ چارجز لیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بینک صارفین کو فراہم کی جانے والی سروسز کے باوجود بینک اپنی مکمل لاگت بھی وصول نہیں کر پا رہے جبکہ 2021 سے اب تک چارجز میں 88 فیصد اضافہ ہو چکا ہے ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سے بھاری چارجز وصول کر رہی ہیں۔
اس موقع پر اسٹیٹ بینک حکام نے وضاحت کی کہ لازمی نوعیت کے پیغامات پر صارفین سے کوئی چارجز وصول نہیں کیے جاتے اور بینکوں پر لازم ہے کہ وہ ایس ایم ایس سروس کے چارجز واضح طور پر صارفین کو آگاہ کریں۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق بینکوں نے صارفین سے مجموعی طور پر 18 ارب 70 کروڑ روپے وصول کیے جبکہ ٹیلی کام کمپنیوں کو 25 ارب 60 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔ یوں بینکوں کو تقریباً 7 ارب روپے اپنی جیب سے ادا کرنا پڑے۔
اعداد و شمار کے مطابق مختلف ٹیلی کام کمپنیوں نے اربوں روپے کی وصولی کی جن میں جاز، ایس سی او، یوفون اور زونگ شامل ہیں۔
اسٹیٹ بینک حکام کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام کمپنیاں بینکوں سے ایس ایم ایس سروس کے لیے پانچ گنا زیادہ چارجز وصول کر رہی ہیں، مزید بتایا گیا کہ 2021 میں ایک ایس ایم ایس کی قیمت تقریباً 48 پیسے تھی جو 2026 میں بڑھ کر 3 روپے تک پہنچ چکی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر قائمہ کمیٹی نے ٹیلی کام کمپنیوں سے مکمل تفصیلات طلب کر لیں تاکہ بڑھتے ہوئے چارجز کی وجوہات کا جائزہ لیا جا سکے اور صارفین کو ممکنہ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔