سرمایہ کاروں کی جانب سے ایرانی ریال بھاری مقدار میں خریدنے اور ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بیس لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس خریدنے کے سبب ایرانی ریال کی قدر جنگ کے باوجود کم ہونے کے بجائے بڑھ گئی۔
ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بتایا کہ جنگ سے پہلے ایک کروڑ ایرانی ریال 2500 روپے میں مل جاتے تھے لیکن اب ایک کروڑ ایرانی ریال 10 ہزار پاکستان روپے میں مل رہے ہیں، لوگوں کا خیال ہے کہ جنگ جلد ختم ہوگی اور ایران پر عائد پابندیاں بھی اٹھ جائیں گی جس کے بعد ایرانی ریال کی قدر میں بڑا اضافہ ہوگا اسی وجہ سے لوگ بڑی مقدار میں ایرانی کرنسی خرید رہے ہیں اور سرمایہ کاری کررہے ہیں۔
ملک بوستان کا کہنا تھا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے بیس لاکھ ڈالر کا ٹول ٹیکس وصول کرنے کا اقدام بھی ایرانی کرنسی کی مضبوطی کا باعث بنا ہے،ایران نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو ایرانی ریال اور چینی یوآن میں ٹول ادا کرنے کا کہا ہے جس کا ایرانی کرنسی پر مثبت پڑا ہے اور اس کی قدر میں کافی زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں ایرانی ریال کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جنگ شروع ہوئے تاحال ایک ماہ سے زائد کا وقت گزر چکا ہے۔