اسرائیل کا حزب اللہ کے سینئر کمانڈر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

بیروت میں کارروائی میں جنوبی محاذ کے کمانڈر حاج اسماعیل ہاشم سمیت مزید 7 افراد شہید اور 26 زخمی ہوگئے، اسرائیلی فوج


ویب ڈیسک April 01, 2026
فوٹو: فائل

اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ فوج نے حزب اللہ کے سینئر کمانڈر حاج اسماعیل ہاشم کو جنوبی علاقے میں ایک کارروائی کے دوران نشانہ بنایا ہے جو گزشتہ برس نومبر میں حزب اللہ کے چیف آف اسٹاف کے بعد بڑا دھچکا ہے۔

غیرملکی خبرایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل کی فوج ترجمان نے بیان میں کہا کہ حزب اللہ کے سینئر اور جنوبی محاذ کے کمانڈر حاج یوسف اسماعیل ہاشم کو شہید کر دیا ہے، کارروائی میں مزید 7 افراد شہید اور 26 زخمی ہوگئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ حزب اللہ کو نومبر 2025 میں چیف آف اسٹاف ہیثم علی طباطبائی کے بعد پہنچنے والے سب سے بڑے دھچکوں میں سے ایک ہے جبکہ حاج اسماعیل ہاشم نے یہ عہدہ علی کراکی کے بعد سنبھالا تھا، جو ستمبر 2024 میں ایک اسرائیلی حملے میں تنظیم کے سابق سربراہ حسن نصراللہ کے ساتھ شہید ہوگئے تھے۔

غیرملکی خبرایجنسی نے بتایا کہ حزب اللہ نے سینئر کمانڈر کی اسرائیلی حملے میں شہید ہونے کی تصدیق کی ہے اور ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے کمانڈر تھے اور یہ طباطبائی کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد ہمیں پہنچنے والا سب سے بڑا دھچکا ہے۔

خیال رہے کہ اسرائیل اور لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے درمیان لڑائی 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد گزشتہ ماہ شروع ہوئی تھی۔

لبنانی حکام کے مطابق گزشتہ ماہ شروع ہونے والی لڑائی میں اب تک لبنان میں 12 لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور اسرائیلی حملوں میں 1,260 سے زیادہ افراد شہید ہو چکے ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے مطابق 2 مارچ 2026 سے اب تک جنوبی لبنان میں 10 اسرائیلی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔

لبنانی یونیورسٹی کے شعبہ عمرانیات کے پروفیسر اور تجزیہ کار طلال عطریسی نے بتایا کہ حاج اسماعیل ہاشم کی شہادر سے جنگ میں حزب اللہ کے طرز عمل پر زیادہ اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے، یقیناً یہ حزب اللہ اور مزاحمت کے لیے ایک نقصان ہے لیکن جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں، ان کے پاس دوسرا اور تیسرا نمبر موجود ہوتا ہے جو ان کی جگہ لے سکتے ہیں۔