اسلام آباد:
انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد میں صحافی مطیع اللہ جان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔
پولیس سے مطیع اللہ جان منشیات فرانزک رپورٹ گم ہونے کے معاملے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایس پی انویسٹیگیشن نے تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کیوں نہیں کی؟
جج طاہر عباس سپرا نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
پولیس نے عدالت کو بتایا تھا کہ مطیع اللہ جان کی منشیات فرانزک رپورٹ گم ہوگئی، جس پر عدالت نے ایس ایس پی انویسٹیگیشن کو تحقیقات کا حکم دیا تھا لیکن پولیس کی جانب سے آج عدالت میں رپورٹ پیش نہیں کی گئی۔
وکیل بیرسٹر احد کھوکھر نے دلائل میں کہا کہ سپریم کورٹ نے اس کیس میں فرد جرم عائد کرنے سے روک دیا ہے۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ سپریم کورٹ نے فرد جرم سے روکا ہے لیکن پولیس کی رپورٹ گم ہونے پر تحقیقات سے تو نہیں روکا، فرانزک رپورٹ گم ہونے پر پولیس نے تحقیقاتی رپورٹ پیش کیوں نہیں کی۔
جج طاہر عباس سپرا نے ریمارکس دیے کہ اگر آئندہ سماعت پر رپورٹ پیش نا کی یا خود ایس پی پیش نا ہوئے تو وارنٹ گرفتاری جاری کروں گا۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔