اسلام آباد:
ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی جانب سے کامیاب سفارت کاری کے خلاف بھارتی پروپیگنڈے کا سلسلہ جاری ہے۔
ہفتہ وار پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ جنگ کے خاتمے پر بات چیت کی گئی ہے۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مسلم امت کا اتحاد ضروری ہے۔ 4 وزرائے خارجہ نے ایران امریکہ کے اسلام آباد میں مذاکرات کی سپورٹ کی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے فعال سفارتکاری جاری رہی۔ پاکستان ،سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی اسلام آباد میں بیٹھک ہوئی۔ 4 فریقی اجلاس کا یہ دوسرا دور تھا۔ اس سے قبل ترکیہ، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے اسحاق ڈار کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں کی تھیں۔
ترجمان کے مطابق ان وزرائے خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی بات چیت ہوئی۔
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز سے 20 پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی ہے۔ اسحاق ڈار نے اس بارے میں سوشل میڈیا پر بتایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اس اقدام کا خیر مقدم کرنا چاہیے۔
علاوہ ازیں اسحاق ڈار نے چینی وزیر خارجہ کی دعوت پر دورہ چین کیا۔ پاکستان اور چین نے ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے لیے 5 نکاتی ایجنڈا بھی جاری کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بات چیت چین میں ہورہی ہے۔ پاکستان نے اپنا وفد چین کے شہر ارومچی بھیجا ہے۔ وفد بھیجنے کا مقصد ہے کہ افغانستان کے اندر سے دہشتگردی بند کی جائے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ افغان طالبان دہشت گردوں کے خلاف ٹھوس اقدامات کریں۔ افغان طالبان کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستانی وفد ابھی چین میں بات چیت کے لیے موجود ہے، واپس نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی بھی مذاکرات سے نہیں بھاگا۔ ہم افغانستان کے معاملے پر چین کے ساتھ بھی انگیج ہیں۔
میڈیا بریفنگ میں طاہر انداربی کا کہنا تھا کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کی سفارت کاری پر ہندوستان سے فیک نیوز کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی وزرات خارجہ کے ترجمان سے منسوب بیان کو بھی غلط پیش کیا گیا ہے۔ بعد میں ایرانی وزارت خارجہ سے وضاحت جاری ہوئی۔ ان فیک نیوز والوں اور جھوٹ بولنے والوں سے ہوشیار رہیں۔