اسلام آباد:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ معاشی بچت، جنگ بندی کی کوششیں اور عوام کو ریلیف فراہم کرنا اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
خطے کی موجودہ صورت حال اور ملک میں جاری کفایت شعاری مہم کے حوالے سے اہم اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت ہوا، جس میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، چاروں صوبوں بشمول گلگت بلتستان کے وزرائے اعلیٰ، وفاقی کابینہ کے ارکان اور وزیراعظم آزاد کشمیر بھی شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ کابینہ نے 2 ماہ کی تنخواہ رضاکارانہ طور پر چھوڑ دی ہے جبکہ تیل کے استعمال پر 50 فیصد کٹوتی کی گئی ہے اور 60 فیصد گاڑیوں کو بھی گراؤنڈ کر دیا گیا ہے تاکہ تیل کا استعمال کم سے کم ہو سکے۔ انہوں نے اس معاملے پر صدر مملکت سمیت چاروں صوبوں کا شکریہ ادا کیا گیا۔
شہباز شریف نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں جنگ کو دوسرا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کے لیے پاکستان نے بھرپور کردار ادا کیا ہے۔ وزیر خارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اس سلسلے میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان بھی جنگ سے متاثر ہو رہا ہے، جب کہ جنگ کی وجہ سے معاشی مشکلات کا بھی سامنا ہے ۔ اس موقع پر انہوں نے جنگ کے دوران ہونے والی شہادتوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ شہباز شریف نے کہا کہ اتحاد کے بغیر کوئی قوم اتنے بڑے چیلنج کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ اس وقت پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے خطاب کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ وفاق ہو یا صوبے، ایسے منصوبے جو رُک سکتے ہیں انہیں روکا جائے تاکہ بچت کر کے عام آدمی کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ سیاسی استحکام ہوگا تو معاشی استحکام ہوگا، اسی لیے سب کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا گیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اس وقت سب سے زیادہ توجہ کمزور اور مفلوک الحال طبقات پر دینی ہوگی ، زراعت کو سہولیات فراہم کرنا ہوں گی کیونکہ ملک میں زراعت کا وقت شروع ہو چکا ہے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ فی الوقت فنڈز کی ضرورت ہے جو مل کر اکٹھے کرنے ہوں گے ۔ کفایت شعاری کو جاری رکھنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایرانی حکام سے بات چیت کی گئی جبکہ فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ کی کوششوں سے آبنائے ہرمز سے ہمارے جہاز گزرے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اللہ کی مہربانی سے خطے میں امن قائم کیا جائے گا۔
شہباز شریف نے کہا کہ مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے صوبے اور وفاق مل کر اقدامات کریں گے۔ کفایت شعاری کے اقدامات کو یقینی بنایا جائے گا انہوں نے کہا کہ فنڈز بچا کر غریب لوگوں کو تحفظ دینے پر خرچ کیے جائیں گے جبکہ جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے وزرائے اعلیٰ نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی پرچم بردار 20 بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزارنے کا انتظام کیا گیا ہے۔