کیوبا کی حکومت نے 2,010 قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق کیوبا حکومت کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے تیل کی ناکہ بندی اور حملے کی دھمکی سے حکومت پر شدید دباؤ ڈال رہی ہے۔
جزیرے بھر میں بلیک آؤٹ نے کیوبا میں زندگی کو تقریباً مکمل طور پر مفلوج کردیا ہے۔
اعلان میں کہا گیا ہے کہ معافی مقدس ہفتے کے سلسلے میں ایک "انسان دوستی کے اشارے" کے طور پر ہے۔ تاہم حکومت نے امریکا کے ساتھ بڑھتے ہوئے دباؤ کا ذکر نہیں کیا۔
کیوبا حکومت نے کہا کہ رہائی پانے والے قیدی غیر ملکی اور کیوبا کے ہیں جن میں خواتین، بوڑھے اور نوجوان شامل ہیں۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ انہیں کب رہا کیا جائے گا یا کن شرائط پر اور نہ ہی اس میں ان جرائم کا ذکر کیا گیا جن کے ارتکاب کا الزام تھا۔
حکام نے اس بارے میں بھی کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں کہ آیا معاف کیے جانے والوں میں سے کوئی بھی مظاہرین کو دہشت گردی، توہین یا عوامی انتشار کے الزام میں سزا سنائی گئی تھی یا نہیں۔