اسلام آباد:
وفاقی آئینی عدالت نے 1985 سے جاری جائیداد کا تنازع ختم کرتے ہوئے کیس کا تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
چیف جسٹس امین الدین خان نے تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
وفاقی آئینی عدالت نے ریمارکس دیے کہ تین فورمز پر مقدمہ ہارنے والے فریق کو دوبارہ دعویٰ کا حق نہیں، اپنی غلطی یا سستی کی وجہ سے ہارا ہوا کیس دوبارہ شروع کرنے کا حق نہیں ملتا۔
آئینی عدالت نے ریمارکس دیے کہ رجسٹرڈ سرکاری کاغذات کو قانون میں سچا اور درست مانا جائے گا، صرف شک یا الزامات کی بنیاد پر کسی رجسٹرڈ شدہ دستاویز کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ رجسٹریشن ایکٹ کے تحت کسی بھی کاغذ کو تیار ہونے کے 6 ماہ کے اندر رجسٹر کروانا لازمی ہے۔
واضح رہے کہ اپیل 27ویں آئینی ترمیم سے پہلے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی تھی۔