شاہد خاقان عباسی نے پیٹرول کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کرنے مطالبہ کردیا

گورننس اور پالیسیاں درست ہوتیں تو پاکستان کے یہ حالات نہ ہوتے، سابق وزیر اعظم


ویب ڈیسک April 04, 2026

سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کا کہنا ہے کہ  اگر ہمارے ملک میں گورننس اور پالیسیاں درست ہوتیں تو پاکستان کے یہ حالات نہ ہوتے۔ حکومت پیٹرول کو ڈی ریگولیٹ کرے اور الیکٹرک وہیکل کو پروموٹ کیا جائے۔

نیشنل  پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ دنیا میں کوئی ملک تیل کی قیمت خود طے نہیں کرتا۔ یہ قیمتیں مارکیٹ پر چھوڑ دی جاتی ہیں اس لیے پیٹرول کو ڈی ریگولیٹ کر دینا چاہئے۔ اسے نجی کمپنیوں پر چھوڑ دیں کہ وہ پیٹرول لائیں اور بیچیں۔ 2018 میں پارلیمنٹ میں بھی یہی بات ہوئی تھی اور یہی فیصلہ درست تھا۔ اب مقابلے کا ماحول ہے، اسے ڈی ریگولیٹ کریں۔ آج ہی آپ کو فرق نظر آنا شروع ہو جائے گا۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آپ پیٹرول اور ڈیزل کو خریداری قیمت سے کم پر فروخت نہیں کر سکتے۔ 2022 میں بھی ہم نے یہی کوشش کی تھی۔ ان حقائق کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنے پڑتے ہیں، جنگ شروع ہوئی تو قیمتوں کا تعین نہیں ہوا، پھر قیمتیں بڑھا دی گئیں۔

شاہد خاقان نے کہا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت 450 روپے تک چلی گئی۔ ابھی 24 گھنٹے بھی نہیں گزرے تھے کہ آپ نے قیمتیں کم کر دیں۔ ہم نے کبھی مستقل پالیسی نہیں بنائی، ہم آج تک کوئی پالیسی نہیں بنا سکے کہ الیکٹرک موٹر سائیکل آ سکے۔ حالانکہ الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی قیمتیں بھی کم ہو چکی ہیں۔ یہ ہماری پالیسی کی ناکامی ہے کہ ہم نے نہ صرف پیٹرول بلکہ الیکٹرک گاڑیوں کو بھی مہنگا کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ہر موٹر سائیکل والا تقریباً 7 ہزار روپے ماہانہ ایندھن پر خرچ کرتا ہے، یعنی وہ تقریباً 3 ہزار روپے ٹیکس حکومت کو دیتا ہے۔ آپ کسی دکان یا کسی اور جگہ سے یہ ٹیکس نہیں لے سکتے لیکن ایک عام آدمی سے لے لیتے ہیں۔ آپ کسی پارلیمنٹیرین سے 3 ہزار ٹیکس نہیں لے سکتے۔

شاہد خاقان نے کہاکہ ہم فیصلے کرتے وقت کہتے ہیں کہ ہم عوام کا سوچتے ہیں، پھر 80 روپے کم کر دیتے ہیں جس کا کوئی خاص فائدہ نہیں ہوتا۔ مانا کہ دنیا میں پیٹرول مہنگا ہے، مگر ہماری پالیسیز کا بھی فیلیر ہے۔ یہ سارے مسائل اسی ملک کے ہیں۔ کل بھی وزیرِاعظم نے کہا کہ جہاز بند ہیں اور ہرمز بند ہے۔

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں معیشت کو مضبوط کرنا ہے۔ پیٹرول کو ڈی ریگولیٹ کریں اور الیکٹرک وہیکلز کو پروموٹ کریں، ان کی قیمتیں کم کریں، اس سے 6 ارب ڈالر کا بوجھ کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ چین نے یہ کر کے دکھایا ہے جو سب کے سامنے ہے۔ پاکستان میں پیسے بانٹنا بہت آسان کام ہے لیکن اس سے کرپشن بڑھتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کسانوں کو پیسے بانٹیں گے، 200 ارب بانٹ دیں گے مگر پیسے بانٹنا مسئلے کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں سولر کا انقلاب آیا ہے اور یہ حکومت کی مرضی کے بغیر آیا ہے، یہ عوام لے کر آئی ہے۔ تقریباً 26 ہزار میگاواٹ سولر شامل ہو چکا ہے، جس کا نہ حکومت کو اندازہ تھا اور نہ ہی کوئی واضح پالیسی تھی۔