تہران میں جنگ نے ایک نیا اور تشویشناک رخ اختیار کر لیا ہے جہاں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں تعلیمی ادارے بھی نشانے پر آ گئے ہیں۔
شمالی تہران میں واقع شاہد بہشتی یونیورسٹی کے وسیع و عریض کیمپس میں قائم لیزر اینڈ پلازما ریسرچ انسٹیٹیوٹ فضائی حملے کے بعد کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔
جمعہ کے روز ہونے والے اس حملے میں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا کیونکہ حکومت کی جانب سے پہلے ہی تمام جامعات کی کلاسز آن لائن منتقل کر دی گئی تھیں تاہم قریبی ہاسٹلز کو جزوی نقصان پہنچا۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے اس حملے کو علمی آزادی، تحقیق اور تعلیمی ماحول پر براہ راست حملہ قرار دیتے ہوئے عالمی تعلیمی برادری سے آواز بلند کرنے کی اپیل کی ہے۔
ادھر ایران کے وزیر سائنس، تحقیق و ٹیکنالوجی حسین سیمائی سراف نے انکشاف کیا ہے کہ 28 فروری سے جاری جنگ کے دوران اب تک ملک بھر میں کم از کم 30 جامعات کے مختلف حصے امریکا اور اسرائیل کے حملوں سے متاثر ہو چکے ہیں۔