واشنگٹن/تہران: امریکی میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے امریکی جنگی طیاروں کو مار گرانے کے لیے جدید انفرا ریڈ ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی استعمال کی، جو روایتی ریڈار سسٹمز سے پوشیدہ رہتی ہے اور جدید الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز بھی اسے پکڑنے یا جام کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق یہ ٹیکنالوجی امریکی دفاعی نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گئی ہے، کیونکہ کھربوں ڈالر کی جدید ٹیکنالوجی کے باوجود امریکا اس نظام کا مؤثر جواب دینے میں ناکام نظر آ رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ دنوں میں امریکی جنگی طیاروں کے گرنے کے واقعات نے ٹرمپ اور امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے اس دعوے کو کمزور کر دیا ہے کہ ایران کی فضائی حدود پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے۔
سی این این کا کہنا ہے کہ ٹرمپ اور ہیگسیتھ بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے کہ ایران کا فضائی دفاعی نظام، بحریہ اور ریڈار نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور امریکی و اسرائیلی طیاروں کو کسی مزاحمت کا سامنا نہیں۔ تاہم حالیہ واقعات نے ان دعوؤں پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایران اب تک 7 امریکی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کر چکا ہے، جن میں ای تھری، ایف ففٹین اور ایف تھرٹی فائیو جیسے جدید طیارے شامل ہیں۔
جنوبی ایران میں ایک ایف ففٹین ایگل کے گرنے کے بعد امریکی افواج لاپتا پائلٹ کی تلاش میں مصروف ہیں۔ امریکی میڈیا کے مطابق ایک پائلٹ کو بچا لیا گیا ہے جبکہ دوسرا تاحال لاپتا ہے۔
دوسری جانب برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے ایرانی سرکاری میڈیا کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے لاپتا امریکی اہلکار کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لیے تقریباً 66 ہزار 100 ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ دعوے درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ جدید جنگی ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک بڑی پیش رفت سمجھی جائے گی، جومستقبل کی فضائی جنگوں کے توازن کو تبدیل کر سکتی ہے۔