سیارہ زحل کے گرد موجود خوبصورت کنارے نظامِ شمسی کے سب سے حیرت انگیز مظاہر میں سے ہیں۔ ان کی تشکیل کے بارے میں سائنسدانوں کے پاس چند قوی نظریات موجود ہیں۔
زحل کے گرد دائرے دراصل برف کے ٹکڑوں، چٹانوں اور گرد و غبار
پر مشتمل ہیں۔ ان کا سائز بہت چھوٹے ذرات سے لے کر بڑے پتھروں تک ہو سکتا ہے۔
یہ کنارے کیسے بنے؟ ۔ ۔ ۔ ۔ تو ان میں سب سے مقبول نظریہ تباہ شدہ چاند کا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق زحل کا کوئی چاند اس کے بہت قریب آ گیا تھا جس پر زحل کی شدید کششِ ثقل نے اسے توڑ دیا۔
یہ عمل Roche Limit کہلاتا ہے، جس میں سیارے کی کشش کسی چاند کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہے۔
ایک اور نظریہ کہتا ہے کہ دمدار ستاروں یا شہابیوں کا آپسی ٹکراؤ ہوا ہو۔ کوئی بڑا شہابِ ثاقب یا دمدار ستارہ زحل کے چاند سے ٹکرایا ہو اور ٹکراؤ سے پیدا ہونے والا ملبہ زحل کے گرد پھیل گیا ہو۔
ایک اور نظریہ کہتا ہے کہ ممکن ہے کہ یہ کنارے وہ مواد ہوں جو زحل بننے کے بعد بچ گئے ہوں۔ یہ مکمل چاند نہیں بن سکا اور کناروں کی شکل میں رہ گیا۔