روس نے ایران کے بوشہر میں نیوکلیئر پاور پلانٹ سے امریکی-اسرائیلی حملوں کے پیش نظر اپنے شہری ورکرز کو انخلا کی ہدایت کردی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی سرکاری نیوکلیئر کارپوریشن روساٹوم کے سربراہ الیکسی لیکاچیف کا حوالہ دیتے ہوئے، سرکاری خبر رساں ایجنسی نے کہا کہ 198 ملازمین کے دو یا تین دنوں میں روس واپس آنے کی امید ہے۔
ایجنسی نے بتایا کہ روس نے پلانٹ کی تعمیر میں مدد کی اور گزشتہ سال تک تقریباً 700 اہلکار وہاں کام کر رہے تھے۔
الیکسی نے اس بات پر زور دیا کہ پلانٹ کے ارد گرد ہونے والی پیش رفت ایک ناپسندیدہ منظر نامے کے مطابق ہو رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری بری پیشگوئیاں غلط نہیں تھیں۔ مجموعی طور پر، خلیج فارس کے ارد گرد تنازعات میں اضافہ پلانٹ کے قریب اسی طرح کے نتائج کا باعث بن رہا ہے۔