واشنگٹن: امریکی سیٹلائٹ امیجری فراہم کرنے والی کمپنی پلانٹ لیبز نے ایران سے متعلق جنگی تصاویر جاری کرنے پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی لگانے کا اعلان کر دیا ہے۔
غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق کمپنی نے اپنے صارفین کو بھیجے گئے ایک ای میل میں بتایا کہ یہ فیصلہ امریکی حکومت کی درخواست پر کیا گیا ہے۔ کمپنی کے مطابق اسے ہدایت دی گئی ہے کہ ایران اور مشرقِ وسطیٰ کے جنگ زدہ علاقوں کی سیٹلائٹ تصاویر کو فی الحال روک دیا جائے۔
یہ پابندی دراصل پہلے سے جاری تاخیر کی پالیسی کا تسلسل ہے، جس کے تحت کمپنی نے ابتدائی طور پر 96 گھنٹے کی تاخیر متعارف کروائی تھی، جسے بعد میں بڑھا کر 14 دن کر دیا گیا تھا۔ اب اس فیصلے کے بعد تصاویر کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔
پلانٹ لیبز کا کہنا ہے کہ یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا تاکہ حساس معلومات دشمن عناصر کے ہاتھ نہ لگ سکیں اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے خلاف استعمال نہ ہو سکیں۔ کمپنی نے واضح کیا کہ یہ پالیسی جنگ کے خاتمے تک جاری رہ سکتی ہے۔
کمپنی کے مطابق 9 مارچ سے اب تک کی تمام تصاویر بھی روکی جائیں گی، تاہم ایک نئے نظام کے تحت مخصوص اور اہم ضروریات کے لیے محدود بنیادوں پر تصاویر جاری کی جا سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق سیٹلائٹ تصاویر جدید جنگوں میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، جن کے ذریعے اہداف کی نشاندہی، میزائل گائیڈنس، نگرانی اور کمیونیکیشن جیسے امور انجام دیے جاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ایسی معلومات پر کنٹرول کو سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ چکی ہے اور جنگی سرگرمیاں مختلف ممالک تک پھیل رہی ہیں۔