کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے،مہنگائی کیخلاف احتجاج، متعدد پی ٹی آئی کارکن زیر حراست

پولیس اور انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کراچی پریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا


ویب ڈیسک April 05, 2026

کراچی: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے خلاف مختلف سیاسی جماعتوں کی احتجاجی کال کے بعد شہر میں سیکیورٹی سخت کر دی گئی۔

پولیس اور انتظامیہ نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر کراچی پریس کلب جانے والے راستوں کو کنٹینرز لگا کر سیل کر دیا۔

ادھر تحریک انصاف کے کارکنان فوارہ چوک پر احتجاج کے لیے جمع ہوئے جہاں مظاہرہ شروع کیا گیا۔ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے متعدد پی ٹی آئی کارکنان کو حراست میں لے لیا۔

اس دوران پی ٹی ائی کارکنان کے احتجاج پر پولیس نے شیلنگ کی جب کہ کارکنان نے پولیس پر پتھراو کیا، اس دوران ایک درجن سے زائد کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔

حکام کے مطابق شہر میں مختلف سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کی کال دی گئی تھی، جس کے پیش نظر حساس مقامات پر اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کراچی ڈویژن کے صدر راجہ اظہر نے پریس کلب پر مہنگائی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس کارروائی کی شدید مذمت کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس کی جانب سے مبینہ پولیس گردی اور کارکنوں پر تشدد قابل مذمت ہے۔

راجہ اظہر نے الزام عائد کیا کہ خواتین کارکنوں پر مرد پولیس اہلکاروں کے ہاتھ اٹھانا انتہائی شرمناک عمل ہے، چیف جسٹس سندھ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں کیونکہ صوبے میں قانون کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کی بے حرمتی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور آئین و قانون کی حفاظت عدالتوں کی ذمہ داری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پولیس کے ذریعے سیاسی کارکنوں کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جمہوریت کے نام پر ریاستی طاقت کا غلط استعمال بند کیا جائے۔ راجہ اظہر نے بلاول بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کارکنوں پر مبینہ تشدد بند کروایا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ پرامن سیاسی کارکنوں پر تشدد ناقابل قبول ہے اور اس معاملے پر ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی، جبکہ آئی ایل ایف کی ٹیموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جہاں کارکن موجود ہیں وہاں فوری پہنچا جائے۔ میڈیا سیل پی ٹی آئی کراچی ڈویژن کے مطابق پارٹی اس معاملے کو قانونی سطح پر بھی اٹھائے گی۔