ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کریں تو کوئی مسئلہ نہ رہے، سہیل آفریدی

خطے میں امن کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہےجنہوں نے دانش مندی سے حالات کو سنبھالا، باجوڑ میں جرگے سےملاقات


ویب ڈیسک April 05, 2026

باجوڑ:

وزیراعلیٰ کے پی سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تو کوئی مسئلہ نہ رہے، خطے میں امن کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے۔

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے ضم ضلع باجوڑ کے دورے کے دوران قومی امن جرگہ کے قائدین سے ملاقات کی اور بعد ازاں باجوڑ سپورٹس کمپلیکس میں منعقدہ بڑے امن جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے امن، ترقی، عوامی حقوق اور پالیسی امور پر حکومت کا تفصیلی موقف شرکاءکے سامنے پیش کیا۔

وزیراعلیٰ نے جرگہ میں شریک قبائلی مشران، عمائدین، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین اور کثیر تعداد میں شریک نوجوانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران کی جدوجہد قابل تحسین ہے جس دانشمندی سے حالات کو سنبھالا گیا وہ واقعی قابل قدر ہے۔

انہوں نے کہا کہ امن سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہے کیونکہ اس کے بغیر ترقی اور خوشحالی ممکن نہیں، صوبائی حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنا ناگزیر ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے رہنماوں نے متفقہ اعلامیہ پیش کیا جس میں واضح کیا گیا کہ آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں ہے، جنگ میں ہمارا کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ ہمارا انفرا اسٹرکچر، ادارے اور نوجوان تباہ ہوئے۔ پختون عوام نے ماضی میں آپریشنز، ڈرون حملوں اور بمباری کے نتیجے میں بے پناہ قربانیاں دیں، ہزاروں جنازے اٹھائے گئے اور لاکھوں افراد بے گھر ہوئے مگر اس کے باوجود پائیدار امن قائم نہ ہو سکا۔

انہوں نے کہا کہ ہم ایسی مزید کسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے اور بدامنی کے جن حالات سے ہم گزرے ہیں کوشش ہے کہ دوبارہ ان سے نہ گزرنا پڑے، ہم نے تمام آپریشن اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں اور یہ حقیقت ہے کہ آپریشن کے ذریعے نہ ماضی میں پائیدار امن قائم ہوا اور نہ آئندہ ہوگا یہی وجہ ہے کہ 22 بڑے اور 16 ہزار چھوٹے آپریشنز کرنے کے باوجود آج تک مکمل امن بحال نہ ہو سکا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کو ہم نے اپنی مرضی سے قبول کیا ہے اور ہمیں کسی سے حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں جب بھی پاکستان پر سخت وقت آیا ہم نے صف اول میں رہ کر قربانیاں دی ہیں اور آئندہ بھی دیں گے لیکن ڈالرز کی لالچ میں کسی جنگ کا حصہ نہیں بنیں گے اور نہ ہی عوامی مفاد کے خلاف کسی پالیسی کا حصہ بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں ریاستیں اپنے عوام کی بہتری کو اولین ترجیح دیتی ہیں مگر یہاں فیصلوں میں قوم کو نظر انداز کیا گیا، بند کمروں میں کیے گئے مسلط شدہ فیصلوں اور ناکام پالیسیوں کے باعث دہشت گردی ختم نہیں ہو رہی، بنیادی اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیے بغیر کیے گئے فیصلے کبھی موثر نتائج نہیں دے سکتے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ میں نے اجلاس میں بارہا کہا کہ قومی جرگہ بنایا جائے اور اس میں سیاسی جماعتوں اور قبائلی مشران کو شامل کیا جائے تاکہ مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاسکیں تمام سیاسی، مذہبی جماعتوں اور مکاتب فکر نے بھی اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ ملٹری آپریشن کسی مسئلے کا حل نہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ حالات کس نے خراب کیے اور کمزوریاں کہاں ہیں، ہم ہر چیز سے آگاہ ہیں، مسائل کا حل عوامی آواز کو پالیسی ساز فورمز تک پہنچانے میں ہے اور اس مقصد کے لیے بھرپور احتجاج بھی کیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے عوام کو ان کے حقوق نہیں دیے جا رہے اور این ایف سی شیئر دیگر صوبوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، جو کہ افسوسناک ہے ایک طرف وسائل فراہم نہیں کیے جاتے جبکہ دوسری طرف حالات مزید خراب کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان پر مزید بوجھ ڈالا جا رہا ہے اور وسائل ذاتی شاہ خرچیوں میں لٹائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ غریب عوام کا آخر قصور کیا ہے اور انہیں کس جرم کی سزا دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر یہاں کے عوام اور ان کے بچوں کا حق ہے اور کوئی بھی یہ حق چھین نہیں سکتا ہم اپنا حق نہیں چھوڑیں گے اور اس کے حصول کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے۔

وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ قبائلی اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا بڑا ترقیاتی پیکیج لایا جا رہا ہے جس میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے لیے چار سو ارب روپے مختص کیے جائیں گے جبکہ دیگر ضروری شعبوں کو بھی کور کیا جائے گا۔ انہوں نے باجوڑ کے لیے متعدد اہم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ باجوڑ میں یونیورسٹی کیمپس قائم کیا جائے گا، باجوڑ کو دیر موٹروے اور سوات موٹروے سے منسلک کیا جائے گا جبکہ 2007 سے بند باجوڑ نرسنگ کالج کو فعال بنایا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جرگہ کے سپاس نامے میں پیش کیے گئے تمام مطالبات منظور کیے جاتے ہیں اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ عوام پر ہی خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ ترقیاتی کاموں کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی نہیں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ امن اور خوشحالی کے لیے ہم سب کو متحد ہو کر کام کرنا ہوگا۔ سیاسی وابستگیاں اپنی جگہ مگر امن کے لیے ہم سب ایک ہیں۔

انہوں نے عوام سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ امن کے لیے کھڑے ہوں، اپنی ترقی اور خوشحالی مجھ پر چھوڑ دیں، میں ہر حال میں آپ کے ساتھ کھڑا رہوں گا چاہے پوری دنیا ایک طرف کیوں نہ ہو جائے۔

وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت امن، استحکام اور عوامی فلاح کے ایجنڈے پر ثابت قدم ہے اور اس سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

پی ٹی آئی کے صوبائی صدر جنید اکبر خان، سابقہ و موجودہ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی اور دیگر نے بھی جرگے سے خطاب کیا اور امن کی ضرورت و اہمیت کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ مقررین اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کریں گے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ امن سب کی مشترکہ ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ہم سب ایک پیج پر ہیں