ضلع باجوڑ: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے قومی امن جرگہ کے قائدین سے ملاقات کی، جس میں خطے کی امن و امان کی صورتحال اور دیرپا استحکام پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیر اعلیٰ نے قبائلی مشران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن کے لیے ان کی جدوجہد قابل تحسین ہے اور جس دانشمندی سے حالات کو سنبھالا گیا وہ قابل قدر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن سب سے پہلے اور انتہائی ضروری ہے، اس کے بغیر ترقی و خوشحالی ممکن نہیں۔
سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ موجودہ صوبائی حکومت دیرپا امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور صوبائی اسمبلی کے فلور پر تمام سیاسی جماعتوں اور مکاتب فکر کے رہنماؤں نے متفقہ اعلامیہ بھی پیش کیا ہے۔ ان کے مطابق سب اس بات پر متفق ہیں کہ آپریشن مسئلے کا حل نہیں، کیونکہ جنگ نے انفراسٹرکچر، اداروں اور نوجوانوں کو نقصان پہنچایا اور مزید ایسی صورتحال کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ امن اور خوشحالی کے لیے سب ایک پیج پر ہیں اور کوشش ہے کہ ماضی جیسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہوں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر پیشہ ورانہ فرائض انجام دیں تو امن خود بخود قائم ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ضم اضلاع کے لیے ایک ہزار ارب روپے کا خصوصی قبائل پیکج لایا جا رہا ہے جس میں صحت اور تعلیم کے شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔