ٹرمپ کی ایران کو ڈیڈ لائن، عالمی تیل مارکیٹ میں بھونچال آ گیا، قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

رواں ماہ کے اختتام تک تقریباً ایک ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے


ویب ڈیسک April 06, 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو 48 گھنٹے کی دی گئی سخت ڈیڈ لائن کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑا اُچھال دیکھنے میں آیا ہے، جس نے توانائی کے عالمی بحران کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی خام تیل کی قیمت 2.35 فیصد اضافے کے ساتھ 114.16 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جبکہ عالمی معیار برینٹ کروڈ 1.72 فیصد بڑھ کر 110.91 ڈالر فی بیرل ہو گیا۔

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر سخت الفاظ میں ایران کو خبردار کیا کہ اگر منگل تک آبنائے ہرمز نہ کھولی گئی تو اسے جہنم کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے ایران کے پاور پلانٹس اور پلوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی بھی دی جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کے باعث اس اہم سمندری گزرگاہ کو مؤثر طور پر بند کر دیا گیا ہے۔

یہ راستہ خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے جوڑتا ہے اور جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی اسی راستے سے گزرتی تھی۔

ماہرین کے مطابق اس بندش نے تاریخ کا سب سے بڑا تیل سپلائی بحران پیدا کر دیا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل، جیٹ فیول، ڈیزل اور پیٹرول کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔

امریکی صدر پہلے ہی عندیہ دے چکے ہیں کہ یہ جنگ مزید دو سے تین ہفتے جاری رہ سکتی ہے جبکہ مالیاتی ادارے خبردار کر رہے ہیں کہ ماہ کے اختتام تک تقریباً ایک ارب بیرل تیل کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے جس میں کروڈ آئل اور ریفائنڈ مصنوعات دونوں شامل ہیں۔