مودی کی اسرائیل حمایت پالیسی ایپسٹین کے اثر و رسوخ کے تحت تشکیل پائی

جیفری ایپسٹین نے بھارت کی اسرائیل پالیسی میں اسٹریٹجک جھکاؤ کی تجویز دی


ویب ڈیسک April 06, 2026

امریکی محکمۂ انصاف کی تحقیقات کے مطابق نریندر مودی کی اسرائیل کی جانب جھکاؤ کی پالیسی ایک خفیہ کرپٹ نیٹ ورک کے اثر و رسوخ کے تحت تشکیل پائی ہے۔

امریکی جریدے نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کی اسرائیل پالیسی سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین  کی ہدایات پر بنائی گئی۔ رپورٹ کے مطابق جیفری ایپسٹین نے بھارت کی اسرائیل پالیسی میں اسٹریٹجک جھکاؤ کی تجویز دی۔

تجویز میں 2 ارب ڈالر کے اسلحہ اور انٹیلی جنس خریداری میں اضافہ شامل تھا تاکہ وائٹ ہاؤس کی حمایت حاصل کی جا سکے۔ بعد ازاں ایپسٹین  نے قطری شاہی خاندان کے سامنے اس اثر کو اپنے مشوروں کا نتیجہ قرار دیا۔

مبینہ طور پر ایپسٹین خود کو وائٹ ہاؤس کے قریبی ذرائع کے طور پر پیش کرتا رہا
ایپسٹِن ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ تقرریوں اور خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں سے متعلق خفیہ معلومات وقت سے پہلے فراہم کرتا رہا۔ رپورٹس کے مطابق ارب پتی انیل  نے خفیہ رابطوں کے ذریعے مبینہ طور پر دفاعی امور سے متعلق بیرونی ہدایات حاصل کیں۔ (نیویارک ٹائمز)
ایپسٹین نے انیل امبانی کو امریکی اثر و رسوخ کے اہم حلقوں تک رسائی دی، جن میں اسٹیو بینن اور ٹام بیرک جیسے نام شامل ہیں۔

امبانی نے مبینہ طور پر جیرڈ کشنر سے اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے لیے اسی نیٹ ورک کا استعمال کیا۔ ایپسٹین نے اپنی سفارتی روابط، اٹلانٹک کونسل اور انٹرنیشنل پیس انسٹی ٹیوٹ جیسے اداروں کے ذریعے پرائیویٹ ڈنرز منعقد کیے تاکہ امبانی کی عالمی ساکھ کو بہتر بنایا جا سکے۔

دستیاب معلومات کے مطابق 2017 میں اسرائیل کی جانب پالیسی جھکاؤ اور 2 ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے اسی مبینہ پس منظر میں کیے گئے۔  لیک ہونے والی ای میلز میں انکشاف کیا گیا کہ خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لیے متنازع روابط اور خفیہ نیٹ ورکس کا استعمال کیا گیا۔

2016 کے رافیل طیارہ معاہدے کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں امبانی گروپ کو مختلف منصوبوں کی ذمہ داری دی گئی۔  مارچ 2026 میں منظر عام پر آنے والے پیغامات کے بعدامبانی کے اثاثوں کے منجمد کیے جانے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آنے کی اطلاعات ہیں۔

جیفری ایپسٹین کے مبینہ نیٹ ورک اور جنسی استحصال سے متعلق سنگین الزامات بھی اس پورے معاملے کے پس منظر میں زیر بحث رہے۔