ایران حملوں کے بعد فضائی بحران، پروازوں نے یو اے ای کا راستہ چھوڑ دیا

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اب مختلف بین الاقوامی پروازیں متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں


ویب ڈیسک April 06, 2026

ایران کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی تنصیبات پر حملوں کے بعد فضائی سفر بھی شدید متاثر ہوا ہے اور کئی ممالک کی ایئرلائنز نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر امارات کی فضائی حدود کا استعمال ترک کر دیا ہے۔

ایوی ایشن ذرائع کے مطابق اب مختلف بین الاقوامی پروازیں متبادل اور طویل راستے اختیار کرنے پر مجبور ہیں، جس کے باعث نہ صرف سفر کا دورانیہ بڑھ گیا ہے بلکہ ایندھن کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستانی پروازیں بھی اب اماراتی فضائی حدود سے گزرنے کے بجائے سعودی عربیہ کی فضائی حدود استعمال کر رہی ہیں۔ یہ پروازیں سعودی عرب کے مغربی اور جنوبی علاقوں سے گزرتے ہوئے مسقط کے راستے اپنا پرانا روٹ اختیار کر رہی ہیں۔

اس تبدیلی کے باعث دمام سے اسلام آباد جانے والی پروازوں کا دورانیہ تقریباً 1 گھنٹہ 40 منٹ تک بڑھ گیا ہے، جبکہ دمام سے لاہور اور ملتان کی پروازوں میں بھی ڈیڑھ گھنٹے تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

اسی طرح دبئی، ابوظبی اور شارجہ سے پاکستان آنے والی پروازوں کے دورانیے میں تقریباً 15 منٹ کا اضافہ ہوا ہے۔ جدہ اور ریاض سے پاکستان کے لیے پروازوں کو 25 منٹ اضافی وقت درکار ہے، جبکہ مدینہ سے اسلام آباد آنے والی پروازوں کا سفر بھی تقریباً 35 منٹ بڑھ گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق پروازوں کے دورانیے میں اضافے کے باعث ایئرلائنز کو ایندھن اور آپریشنل اخراجات میں لاکھوں روپے کا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ رہا ہے، جس کے اثرات مستقبل میں ٹکٹوں کی قیمتوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں سیکیورٹی صورتحال معمول پر نہیں آتی، فضائی راستوں میں یہ تبدیلیاں برقرار رہنے کا امکان ہے۔