سپریم کورٹ میں پلاسٹک سرجن ڈاکٹر فواد ممتاز کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی، جس میں جسٹس ہاشم کاکٹر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے مقدمے کی جانچ کی۔ ڈائریکٹر لیگل پنجاب عمران احمد اور وکیل صفائی عدالت میں پیش ہوئے۔
اسلام آباد کے سیکٹر بی17 میں ملزم پلاسٹک سرجن غیر قانونی طور پر کڈنی ٹرانسپلانٹ کرتے ہوئے گرفتار ہوا تھا۔ ڈی ایل پنجاب کے مطابق کوئی آپریشن تھیٹر موجود نہیں تھا اور ڈاکٹر پہلے بھی ایسے ٹرانسپلانٹ کرتے ہوئے پکڑا جاچکا ہے۔ عدالت میں وکیل صفائی پیش ہوئے جبکہ ملزم خود عدالت میں پیش نہیں ہوا کیونکہ وہ ضمانت پر باہر ہے اور اس کے خلاف متعدد کیسز زیر سماعت ہیں۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پلاسٹک سرجن کے لیے کڈنی ٹرانسپلانٹ انتہائی پیچیدہ آپریشن ہے اور غریب لوگوں کے ساتھ زیادتی کی گئی ہے، ملزم کو 37 سال قید ہونا چاہیے۔ عدالت نے مریضوں کی حالت پر تشویش ظاہر کی اور پوچھا کہ کیا مریض ابھی زندہ ہیں، جس پر ڈی ایل پنجاب نے تصدیق کی کہ مریض ابھی زندہ ہیں۔
سپریم کورٹ نے نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 23 اپریل تک ملتوی کر دی۔ پراسیکیوشن پنجاب نے ملزم کی سزا میں اضافے کے لیے اپیل دائر کی ہے، جبکہ ہائی کورٹ نے پہلے ہی ملزم کی سزا کو 2023 میں سنائی گئی سات سال قید تک محدود کیا تھا۔